تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 126

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۶ سورة الفاتحة وَلِذلِكَ وَقَعَتْ هَذِهِ الْجُمْلَةُ تَحْتَ | پس آیت مبارکہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اللہ تعالیٰ کی معبودیت کا مُجْمَلَةِ " الْحَمْدُ لِلَّهِ فَانْظُرْإِن كُنت اعتراف ہے جو تمام صفات کا ملہ کا جامع ہے اور اسی لئے یہ جملہ ( اِيَّاكَ نَعْبُدُ الْحَمْدُ لِلهِ کے جملہ کے تحت ہے۔پس تو غور کر! مِنَ النَّاظِرِينَ اگر تو غور کرنے والوں میں سے ہے۔وَ ثَانِيهَا بَحْرُ رَبِّ الْعَالَمِينَ “ ان میں سے دوسرا سمندر رَبُّ الْعَالَمِینَ کا ہے۔اور اس وَتَعْتَرِفُ مِنهَا جُملة "إِيَّاكَ سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ بندہ جب یہ وو نَسْتَعِينُ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَمِعَ أَنَّ بات سنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے اور ایسا اللهَ يُرَبِّ الْعَالَمِينَ كُلَّهَا وَ مَا مِن کوئی عالم نہیں جس کا وہ مربی نہ ہو اور وہ (بندہ ) اپنے نفس کو بدی عَالَمٍ إِلَّا هُوَ مُرَبِّيْهِ وَ رَأَى نَفْسَهُ کا حکم دینے والا دیکھتا ہے تو وہ گریہ وزاری کرتا ہے اور مجبور ہوکر أَمَارَةٌ بِالسُّوءِ فَتَطَرَّعَ وَاضْطَرَّ وَ اس کے دروازہ کی طرف پناہ ڈھونڈتا ہے۔اس کے دامن سے التجأ إلى بَابِهِ وَتَعَلَّقَ بِأَهْدَابِهِ وَ لپٹ جاتا ہے اور اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی دَخَلَ في مَأْدَبِه برعَايَةِ آدابه (روحانی) ضیافت گاہ میں داخل ہو جاتا ہے تا وہ (پاک لِيُدْرِكَهُ بِالرُّبُوبِيَّةِ وَ يُحْسِنَ إِلَيْهِ وَ ذات) اپنی ربوبیت سے اس کی دستگیری کرے اور اس پر هُوَ خَيْرُ الْمُحْسِنِينَ فَإِنَّ الرُّبُوبِيَّةَ احسان فرمائے اور وہ بہترین احسان کرنے والا ہے۔پس صِفَةٌ تُعْطِي كُلّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ربوبیت ایک ایسی صفت ہے جو ہر چیز کو اس کے وجود کے المَطلُوبَ لِوُجُودِه وَلَا يُغَادِرُه مناسب حال خلق عطا کرتی ہے۔اور اس کو ناقص حالت میں نہیں رہنے دیتی۔الناقصين۔وَ ثَالِفُهَا بَحْرُ اسْمِ الرَّحْمنِ و ان میں سے تیسرا سمندر الرحمن ہے اور اس سے اھدنا تَغْتَرِفُ مِنْهُ جُمْلَةُ اهْدِنَا الخراط الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا جملہ سیراب ہوتا ہے تا انسان ہدایت اور 66 وو الْمُسْتَقِيمَ لِيَكُونَ الْعَبْدُ من رحمت پانے والوں میں ہو جائے کیونکہ صفت رحمانیت ہر اُس الْمُهْتَدِينَ الْمَرْحُوْمِینَ فَإِنَّ وجود کو جو صفت ربوبیت سے تربیت پاچکا ہے وہ سب کچھ مہیا الرَّحْمَانِيَّةَ تُعطى كُلَّ مَا يَحتاجُ کرتی ہے جس کی اسے حاجت ہو۔پس یہ صفت تمام وسائل کو إِلَيْهِ الْوُجُودُ الَّذِي رُبّي مِنْ صِفَةِ | رحم پانے والے کے موافق بنا دیتی ہے اور ربوبیت کا نتیجہ وجود