تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 127

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۷ سورة الفاتحة الرُّبُوبِيَّةِ۔فَهَذِهِ الصَّفَةُ تَجْعَلُ الْأَسْبَابَ کو کامل قویٰ دینا اور ایسے طور پر پیدا کرنا ہے جو اس | مُوَافِقَةٌ لِلْمَرْحُوْمِ وَ أَثَرُ الرُّبُوَبِيَّةِ کے لائق حال اور مناسب ہے۔اسی صفت کا اثر یہ ہے تَسْوِيَةُ الْوُجُودِ وَتَخلِيقُه كَمَا یلیی و کہ یہ ہر وجود کو اس کے عیوب کو چھپا دینے والا لباس يَنْبَغِى وَأَثَرُ هَذِهِ الصَّفَةِ أَنّها تُكسى ذلك پہناتی ہے۔اسے زینت عطا کرتی ہے۔اس کی الْوُجُودَ لِبَاسًا يُوَارِى سَواتَهُ وَعَجَب لَهُ آنکھوں میں سرمہ لگاتی ہے۔اس کے چہرہ کو دھوتی زِينَتَهُ وَ تَكْحُلُ عَيْنَهُ وَتَغْسِلُ وَجْهَهُ وَ ہے۔اس کو سواری کے لئے گھوڑا دیتی ہے۔اور اس کو تُعْطِي لَهُ فَرَسًا لِلرُّكُوبِ وَتُرِيْهِ طُرُقَ شاہسواروں کے طریق بتاتی ہے اور صفت ( رحمانیت ) الْفَارِسِينَ۔وَمَرْتَبَعُهَا بَعْدَ الرُّبُوبِيَّةِ وَ کا درجہ ربوبیت کے بعد ہے وہ ہر چیز کو اس کے وجود کا هي تُعْطى كُلَّ شَنِي مَظْلُوبٌ وُجُودِه و مطلوب عطا کر کے اسے توفیق یافتہ لوگوں میں سے بنا تَجْعَلُهُ مِنَ الْمُوَفِّقِينَ۔وَرَابِعُهَا بَحْرُ اسْمِ الرَّحِيمِ وَتَعْتَرِفُ ان میں سے چوتھا سمندر صفت الرحیم ہے اور اس مِنْهُ جُمْلَةُ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ سے صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے وو 66 دیتی ہے۔عَلَيْهِمْ لِيَكُونَ الْعَبْدُ مِنَ الْمُنْعَمِينَ تا بنده خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے۔الْمَخْصُوصِينَ فَإِنَّ الرَّحِيمِيَّةَ صِفَةٌ کیونکہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو ان انعامات خاصہ مدنِيَّةٌ إِلَى الْإِنْعَامَاتِ الخاصة التي لا تک پہنچا دیتی ہے جن میں فرمانبردار لوگوں کا کوئی الْخَاصَّةِ الَّتِي شَرِيكَ فِيهَا لِلْمُطِيعِینَ وَإِنْ كَانَ شریک نہیں ہوتا۔گو ( اللہ تعالیٰ کا ) عام انعام انسانوں الْإِنْعَامُ الْعَامُ مُحِيطَةٌ بِكُلِّ شَيْءٍ مِن سے لے کر سانپوں ، اثر دباؤں تک کو اپنے احاطہ میں النَّاسِ إِلَى الْأَفَاعِى وَالتّذَيْنِ۔لئے ہوئے ہے۔وَخَامِسُهَا بَحْرُ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ ان میں سے پانچواں سمندر ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ( کی وَتَخْتَرِفُ مِنْهُ جُمْلَةُ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ صفت) ہے۔اور اس سے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ فَإِنَّ غَضَبَ اللهِ الظَّالِينَ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے وَتَرَكَهُ فِي الضَّلَالَةِ لَا تَظْهَرُ حَقِيْقَتُهُ عَلَى غضب اور اس کے (انسان کو ) ضلالت اور گمراہی میں النَّاسِ عَلَى وَجْهِ الْعَامِلِ إِلَّا في يَوْمِ چھوڑ دینے کی حقیقت لوگوں پر مکمل طور پر جزا اور سزا کے وو 66