تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 125

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۵ سورة الفاتحة ووو وَمُلِكَ يَوْمِ الدِّينِ فَجَعَلَ اللهُ كَمِثْلِهَا ان پانچ کو ان پانچ کے مقابل پر رکھا ہے۔اور ہر فیض خَمْسَةٌ مِنَ الْمُعْتَرِفَاتِ مَا ذَكَرَ من بَعْدُ حاصل کرنے والی آیت ایک ایسی صفت سے مستفیض ہوتی وَقَابَلَ الْخَمْسَةَ بِالْخَمْسَةِ وَكُلُّ وَاحِدٍ من ہے جو اس کے مشابہ اور اس کے مقابل ہے۔اور اس سے الْمُغْتَرِفَاتِ يَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ صِفَةٍ وه مطالب اخذ کرتی ہے جن پر وہ صفت حاوی ہے اور جو تُشَابِهُ وَ تُنَاوِحُهُ وَ تَأْخُذُ مِمَّا احْتَوَتْ عَلَى طالبانِ الہی کو بے حد پسندیدہ ہیں۔مثلاً ان میں سے سب مَعَانٍ تَسُرُّ الْعَارِفِينَ مَثَلًا أَوَّلُهَا بَحْرُ سے پہلا سمندر اللہ (اسم ذات ) کا سمندر ہے۔اس کے اسم الله تعالى وَتَخْتَرِفُ مِنْهُ مقابل اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا فقرہ ہے جو مقابل میں رکھی جانے جُمْلَةُ اِيَّاكَ نَعْبُدُ الَّتِي حَذَتْهُ وَ صَارَتْ والی اشیاء کی طرح ہو کر فیض حاصل کرتا ہے۔اور عبادت کی كَالْمُحَاذِيْنَ۔وَحَقِيْقَةُ التَّعَبدِ تَعْظِیمُ حقیقت ہے۔پوری انکساری سے معبود کی تعظیم کرنا اور اس الْمَعْبُوْدِ بِالتَذَلُّلِ التَّامِ وَ الْاِحْتِذَآؤ کے نمونہ کو اختیار کرنا۔اس کے رنگ سے رنگین ہونا اور يمِقَالِهِ وَ الْإِنْصِبَاغُ بِصِبْغِهِ وَالْخُرُوجُ فانی فی اللہ لوگوں کی طرح نفسانیت اور انانیت سے الگ مِنَ النَّفْسِ وَالْأَتَانِيَّةِ كَالْفَانِينَ وَسِرہ ہو جاتا۔اس میں راز یہ ہے کہ انسان کو بیمار اور روگی اور أَنَّ الْعَبْد قَدْ خُلِقَ كَالْمَرِيضِ وَالْعَلِيْلِ پیاسے کے مثل پیدا کیا گیا ہے۔اور اس کی شفا، اس کی وَالْعَطَشَانِ وَشِفَاؤُهُ وَتَسْكِينُ عُلَتِهِ و پیاس کی تسکین اور اس کے جگر کی سیرابی اللہ تعالیٰ کی عبادت إِرْوَاءُ كَبِدِهِ فِي مَاءِ عِبَادَةِ اللهِ فَلَا يَبْرَأُ کے پانی سے ہوتی ہے۔وہ تبھی صحت مند اور سیراب ہوسکتا وَلَا يَرْتَوِى إِلَّا إِذَا يَثْنِي إِلَيْهِ انْصِبَابَهُ ہے۔جب وہ اللہ کی طرف اپنا رخ موڑ لیتا ہے اور اس کے وَ يُفْرِطُ صَبَابَهُ وَ يَسْعَى إِلَيْهِ ساتھ اپنے عشق کو بڑھاتا ہے اور وہ اس (معبود حقیقی ) کی كَالْمُسْتَسْقِينَ۔وَلَا يُطهِّرُ قَرِيحتَهُ وَلا طرف پانی کے طالبوں کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے يُليّدُ عَجَاجَتَهُ وَلَا يُحَلَّى مُجَاجَتَهُ إِلَّا ذِكرُ ذکر کے سوا کوئی چیز نہ تو اس کی فطرت کو پاک کر سکتی ہے نہ الله أَلا بذكر الله تَطْمَئِنُّ قُلُوبُ الَّذِينَ اس کے غبار خاطر کو مجتمع کرسکتی ہے۔اور نہ اس کے منہ کا يَعْبُدُونَ اللهَ وَيَأْتُونَهُ مُسْلِمِينَ فَفِي آيَةٍ ذائقہ شیریں بنا سکتی ہے۔سنو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان ايَّاكَ نَعْبُدُ إِقْرَارٌ لِمَعْبُودِيَّةِ الله الذينی ہی لوگوں کے دل مطمئن ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت هُوَ مُسْتَجْمِعُ بِجَمِيعِ صِفَاتِ الْعَامِلِيَّةِ کرتے ہیں اور اس کے حضور فرمانبردار بن کر آتے ہیں۔و