تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 83
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۳ سورة الفاتحة بَعْدَ الْحَمْدِ صِفَانًا تَسْتَلْزِمُ هَذَا الْمَعْلى نزدیک ان معنی کو مستلزم ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے لفظ حمدہ میں عِنْدَ أَهْلِ الْعِرْقَانِ وَاللهُ سُبْحَانَهُ أَوْمَاً ان صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو اس کے ازلی نور في لفظ الْحَمْدِ إِلى صِفَاتٍ تُوجَدُ فِی نُورِہ میں پائی جاتی ہیں۔القديم۔ثُمَّ فَسَّرَ الْحَمْدَ وَجَعَلَهُ مُخدِّرَةٌ پھر اس نے اس لفظ حمد کی تفسیر فرمائی ہے اور اسے ایک سَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا عِنْدَ ذِكْرِ الرَّحْمَانِ ایسی پردہ نشین قرار دیا ہے جو رحمان اور رحیم کے ذکر پر اپنے وَالرَّحِيمِ فَإِنَّ الرَّحْمَانَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ چہرہ سے نقاب اٹھاتی ہے کیونکہ رحمن کا لفظ اس امر پر الْحَمْدَ مَبْنِى عَلَى الْمَعْلُومِ وَالرَّحِيم دلالت کرتا ہے کہ لفظ حمد مصدر معروف ہے اور اسی طرح يَدُلُّ عَلَى الْمَجْهُولِ كَمَا لا يخفى على رحیم کا لفظ حمد کے مصدر مجہول ہونے پر دلالت کرتا ہے۔جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔( ترجمہ از مرتب ) أَهْلِ الْعُلُومِ۔(اعجاز المسیح، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۲۹ تا ۱۳۱) الْحَمْدُ لِلهِ هُوَ القَتَاء بِالمَسَانِ عَلَى حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی صاحب اقتدار شریف الْجَمِيْلِ لِلْمُقْتَدِرِ النَّبِيْلِ عَلى قَصْدِ ہستی کے اچھے کاموں پر اس کی تعظیم و تکریم کے ارادہ سے و التَّبْجِيْلِ وَالْعَامِلُ التَّاةُ مِنْ افرادِہ زبان سے کی جائے اور کامل ترین حمد رب جلیل سے مخصوص مُخْتَصُّ بِالرَّبِ الْجَلِيلِ وَ كُلُّ حَمدٍ مِن ہے اور ہر قسم کی حمد کا مرجع خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہمارا وہ الْكَثِيرِ وَالْقَلِيْلِ يَرْجِعُ إِلى رَبَّنَا الَّذِي ربّ ہے جو گمراہوں کو ہدایت دینے والا اور ذلیل لوگوں کو و هُوَ هَادِقُ الضَّالِ وَ مُعِزُ اللَّلِيْلِ وَهُوَ عزت بخشنے والا ہے۔اور وہ محمودوں کا محمود ہے ( یعنی وہ محمُودُ الْمَحْمُودِينَ وَ الشُّكْرِ يُفَارِقُ ہستیاں جو خود قابل حمدہ ہیں وہ سب اس کی حمد میں لگی ہوئی الْحَمْد بِخَصُوصِيَّتِهِ بِالصّفاتِ الْمُتَعَدِيّةِ ہیں۔اکثر علماء کے نزدیک لفظ شکر حمد سے اس پہلو میں عِنْدَ أَكْثَرِ الْعُلَمَاءِ والمَدْحُ يُفَارِقُهُ في فرق رکھتا ہے کہ وہ ایسی صفات سے مختص ہے کہ جو دوسروں کو مِيْلٍ غَيْرِ الخَتِيَارِي كَمَا لا يخفى على فائدہ پہنچانے والی ہوں اور لفظ مدح لفظ حمد سے اس بات الْبُلَغَاءِ وَالْأَدَبَاءِ الْمَاهِرِينَ میں مختلف ہے کہ مدح کا اطلاق غیر اختیاری خوبیوں پر بھی ہوتا ہے۔اور یا مرضصیح و بلیغ علماء اور ماہر ادباء سے مخفی نہیں۔