تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 439

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۱) — Page 82

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۲ سورة الفاتحة وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں۔اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے۔مگر اللہ تعالیٰ بد قسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو۔بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے۔جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بکی (برائین احمد یه چهار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۴۳۶٬۴۳۵ حاشیہ نمبر ۱۱) منزہ ہے۔اعْلَمُ أَنَّ الْحَمْدَ ثَنَاءُ عَلَى الْفِعْلِ | واضح ہو کہ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جو کسی مستحق تعریف الْجَمِيْلِ لِمَنْ يَسْتَحِقُ الثَّنَاءِ وَمَدْحُ کے اچھے فعل پر کی جائے نیز ایسے انعام کنندہ کی مدح کا نام لِمُنعِم أَنْعَمَ مِنَ الْإِرَادَةِ وَ أَحْسَنَ ہے جس نے اپنے ارادہ سے انعام کیا ہو۔اور اپنی مشیت كَيْفَ شَاءَ۔وَلَا يَتَحَقِّقُ حَقِيْقَةُ الْحَمْدِ کے مطابق احسان کیا ہو۔اور حقیقت حمد کما حقہ صرف اسی كَمَا هُوَ حَقُهَا إِلَّا لِلَّذِي هُوَ مَبْدَءُ لجميع ذات کے لئے متحقق ہوتی ہے جو تمام فیوض وانوار کا مبدء ہو الْفُيُوْضِ وَالْأَنْوَارٍ۔وَمُحْسِنُ عَلَى وَجْهِ اور علی وجہ البصیرت کسی پر احسان کرے نہ کہ غیر شعوری طور الْبَصِيرَةِ لَا مِنْ غَيْرِ الشُّعُورِ وَلَا مِن پر یا کسی مجبوری ہے۔اور حمد کے یہ معنی صرف خدائے خبیر و الْإِضْطِرَارِ۔فَلَا يُوجَدُ هَذَا الْمَعْلى إِلَّا في بصیر کی ذات میں ہی پائے جاتے ہیں۔اور وہی محسن ہے اللهِ الْخَبِيْرِ الْبَصِيرِ۔وَإِنَّهُ هُوَ الْمُحْسِنُ اور اوّل و آخر میں سب احسان اسی کی طرف سے ہیں۔اور وَمِنْهُ الْمِنَنُ كُلُّهَا فِي الْأَوَّلِ وَالْأَخِيرِ سب تعریف اسی کے لئے ہے اس دنیا میں بھی اور اُس دنیا وَلَهُ الْحَمْدُ فِي هَذِهِ الدَّارِ وَتِلْكَ الدَّارِ میں بھی اور ہر حمد جو اس کے غیروں کے متعلق کی جائے اس کا وَإِلَيْهِ يَرْجِعُ كُلُّ حَمدِ يُنْسَبُ إلى مرجع بھی وہی ہے۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ لفظ حمد جو اس آیت الْأَغْيَارِ ثُمَّ إِنَّ لَفَظَ الْحَمْدِ مَصْدَرٌ میں اللہ ذوالجلال کی طرف سے استعمال ہوا ہے مصدر ہے منينُ عَلَى الْمَعْلُومِ وَالْمَجْهُولِ جو بطور مبنی المعلوم اور منی مجہول ہے۔یعنی فاعل اور مفعول وَلِلْفَاعِلِ وَ الْمَفْعُول مِن اللہ ڈی دونوں کے لئے ہے۔اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ الْجَلَالِ۔وَ مَعْنَاهُ أَنَّ اللهَ هُوَ مُحَمَّد وَ هُوَ کامل طور پر تعریف کیا گیا اور تعریف کرنے والا ہے۔اور أَحْمَدُ عَلَى وَجْهِ الْكَمَالِ وَ الْقَرِينَةُ اس بیان پر دلالت کرنے والا قرینہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الدَّالَةُ عَلَى هَذَا الْبَيَانِ أَنَّهُ تَعَالَى ذَكَر حمد کے بعد ایسی صفات کا ذکر فرمایا ہے جو اہل عرفان کے