تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 3
سے پڑھے گی مصنف کی اجازت سے نہیں پڑھے گی۔قرآن کریم نے اس مشکل کو یوں حل کیاکہ جتنے اختلافات تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے قائم مقام حروف یا قائم مقام الفاظ تجویز کر دئیے جس کی وجہ سے تمام اقوام عرب آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے پر قادر ہو گئیں۔یہ چونکہ ایک بالکل اچھوتا اور نیا طریق تھا اور قرآن کریم سے پہلے کسی کا ذہن ا س طرف نہیں گیا تھا اس لئے لوگوں پر شروع شروع میں یہ بات شاق گزرتی تھی۔اور ہر فریق سمجھتا تھا کہ قرآن میرے قبیلہ کی زبان میں نازل ہواہے۔دوسرا قبیلہ اگر لہجہ بدل کر یا حرف بدل کر کسی آیت کو پڑھتا ہے تو وہ گویا قرآن کریم میں تحریف کرتا ہے۔اس لئے شروع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بار بار سمجھانی پڑی۔جب لوگ سمجھ گئے تو ان کو معلوم ہو ا کہ یہ عیب نہیں۔نہ معنوں میں اس سے کسی قسم کا تغیر پیدا ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو معانی میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور ہر قوم کے پڑھنے کے لئے اس میں آسانی ہو جاتی ہے۔ایک مشہور عربی ادیب نے لکھا ہے کہ ایک بادشاہ تھا جس نے اپنے دربار میں ایک ایسے شخص کو وزارت کا عہدہ سپرد کیا ہوا تھا جو اپنے لہجہ کے مختلف ہونے کی وجہ سے ’’ ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا۔مگر بادشاہ کو اُس کے اس نقص کا کوئی علم نہیں تھا۔ایک دفعہ کسی نے بادشاہ کے پاس شکایت کی کہ آپ نے فلاں شخص کو اپنا وزیر مقرر کیا ہوا ہے مگر اُس کی تو یہ حالت ہے کہ وہ ’’ ر‘‘ بھی نہیں بول سکتا۔اور اگر کوئی ایسا لفظ اُسے بولنا پڑے جس میں ’’ ر‘‘ آتی ہو تو وہ ’’ ر ‘‘ کی جگہ ’’ ل‘‘ پڑھ دیتا ہے۔بادشاہ نے کہا کہ مجھے تو اس کے اس نقص کا کوئی علم نہیں۔لیکن چونکہ تم نے شکایت کی ہے اس لئے اب میں اس کا ضرور امتحان لوںگا اور دیکھو ںگا کہ تمہاری بات کہاں تک درست ہے۔چنانچہ اس نے وزیر کو بلوایا اور اسے حکم دیا کہ اپنے سیکرٹری کو یہ آرڈر لکھوائو کہ اَمَرَ اَمِیْرُ الْاُمَرَاءِ اَنْ یُّحْفَرَ الْبِئْرُ فِی الطَّرِیْقِ لِیَشْرِبَ مِنْہُ الْمَآءَ الصَّادِرُ وَالْوَارِدُ۔یعنی شہنشاہ نے حکم دیا ہے کہ شاہی راستہ پر ایک کنواں کھودا جائے تاکہ سب آنے اور جانے والے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔یہ فقرہ ایسا تھا جس میں اُس نے تمام ایسے الفاظ جمع کر دئیے تھے جن میں ’’ ر ‘‘ آتی ہے۔لیکن وہ وزیر بڑا عالم اور ہوشیار تھا۔اُس نے یہ حکم سنتے ہی فوراً اپنے سیکرٹری سے کہا کہ لکھو حَکَمَ حَاکِمُ الْحُکَّامِ اَنْ یُّقْلَبَ الْقَلِیْبُ فِی السَّبِیْلِ لِیَنْتَفِعَ مِنْہُ الصَّادِیْ وَالْبَادِیْ۔یعنی تمام حکام کے حاکم اور سردار نے حکم دیا ہے کہ سبیل میں جو طریق کا ہم معنے تھا اور اس میں ’’ ر‘‘ نہیں آتی تھی۔ایک قلیب کھودا جائے جو بئر کا ہم معنے ہے اور اس میں بھی ’’ ر‘‘ نہیں آتی بلکہ ’’