تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 2
سے روایت کی ہے کہ میں نے ایک دفعہ ہشام بن حکیم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ فرقان سنی۔مگر وہ اس سورۃ کو اس طرح نہیں پڑھتے تھے جس طرح میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سورۃ سنی تھی۔قریب تھا کہ میں نماز میں ہی اُن پر حملہ کر دیتا مگر میں نے صبر کیا۔جب انہوں نے سلام پھیر دیا تو میں نے اُن کی چادر پکڑ لی اور میں نے کہا آپ کو اس سورۃ کا پڑھنا کس نے سکھایا ہے۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔میں نے جواب میںکہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرز پر نہیں پڑھایا جس طرز پر تم پڑھ رہے ہو۔پھر میں اُن کو گھسیٹتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور میں نے کہا۔یا رسول اللہ ! یہ اس طرح قرآن پڑھ رہے ہیں جس طرح آپ نے مجھے نہیں پڑھایا۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہشام ؓ ذرا پڑھ کر تو سنائو۔چنانچہ ہشام ؓ نے اس طرح جس طرح میں نے اُن کو پڑھتے ہوئے سُنا تھا وہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنائی۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔یہ سورۃ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔پھر آپ ؐ نے فرمایا۔عمرؓ تم پڑھو تو میں نے یہ سورۃ اُس طرح پڑھی جس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھنی سکھائی تھی۔آپ نے فرمایا۔یہ سورۃ اسی طرح نازل ہوئی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن سات طریق پر نازل ہوا ہے۔جس طرح کسی کی زبان پر چڑھے وہ اُسی طرح پڑھ لیا کرے ( تفسیر فتح البیان سورۃ الفرقان ابتدائیہ۔بخاری کتاب فضائل القرآن باب انزل القرآن علی سبعۃ احرف ) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرأتیں جن پر مستشرقین اور پادریوں نے اپنے اعتراضات کی بڑی بھاری بنیاد رکھی ہے۔وہ درحقیقت صرف عرب کی مختلف اقوام کے لہجوں کا فرق تھا۔اور اس قسم کے فرق عربی زبان میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔کیونکہ عرب قوم مختلف آزاد زبانوں کے اندر گھری ہوئی تھی۔عرب کا ایک پہلو حبشہ کے ساتھ ملتا تھا۔دوسرا پہلو ایران کے ساتھ ملتا تھا۔تیسرا پہلو یہودیوں اور آرامیوں کے ساتھ ملتا تھا او ر چوتھا پہلو ہندوستان کے ساتھ ملتا تھا۔ایسے مختلف زبانوں میں گھرے ہوئے لوگوں کی زبان لازماً ان زبانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض عرب بعض حروف کو ادا کر سکتے تھے اور بعض دوسرے ان حروف کو ادا نہیں کر سکتے تھے۔مثلاً بعض ’’ ر ‘‘ ادا کر سکتے تھے اور بعض ’’ ر ‘‘ کی جگہ ’’ل‘‘ ادا کرتے تھے۔اور بعض دفعہ کسی لفظ کے ادا کرنے میں مشکل محسوس کر کے اس کے ہم معنی کوئی دوسرا لفظ استعمال کر لیتے تھے۔اگر ایک ادیب اپنی کتاب میں ان دونوں لفظوں کا پڑھنا جائز رکھے تو دونوں قوموںکے لئے اس کتاب کا پڑھنا آسان ہو جائےگا مگر دوسری صورت میں ایک حصہ قوم کو اس کا پڑھنا آسان ہوگا اور دوسرے حصہ قوم کو اس کا پڑھنا مشکل ہوگا اور اگر وہ اسے پڑھے گی بھی تو اپنے اختیار