تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 4
ل‘‘ آتا ہے تاکہ اس سے صادی اور بادی یعنی شہر میں آنے والے اور شہر سے جانے والے سب فائدہ اٹھا سکیں۔اس جگہ بھی اس نے صادر اور وارد کی جگہ ایسے الفاظ استعمال کئے جو انہیں الفاظ کے ہم معنے تھے مگر ان میں بھی ’’ ر‘‘ نہیں آتی تھی۔بادشاہ اس کی اس ہوشیاری سے بہت متاثر ہوا اور اُس نے شکایت کرنےوالے سے کہا کہ تم نے تو اس لئے شکایت کی تھی کہ میں اسے اس عہدہ سے برطرف کردوں مگر میری نگاہ میں تو اس کا درجہ اور بھی بڑھ گیا ہے۔کیونکہ میری زبان سے سنتے ہی اس نے میرے فقرہ کو فوراً ایسے الفاظ میں بدل دیا جو مفہوم کے لحاظ سے میرے الفاظ کے عین مطابق تھے۔اور ان میں ’’ ر ‘‘ بھی نہیں آتی تھی۔اس بات نے تو ثابت کر دیا ہے کہ یہ شخص بڑا عالم ہے اور مجھے اس کی قدر کرنی چاہیے۔اس مثال سے یہ بات بآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ جس طرح وہ وزیر ’’ ر‘‘ نہیں بول سکتا تھا بلکہ ’’ ر‘‘ کی بجائے ’’ ل‘‘ بولنے پر مجبور تھا اسی طرح عرب کے مختلف قبائل میں لب و لہجہ کا اختلاف پایا جاتا تھا جس کی وجہ سے بعض لوگ بعض حروف کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف قرأتوں میں قرآن کریم کی تلاوت کی اجازت دےکر ان تمام اختلافات کو مٹا دیا۔اس طرح قرآن کریم ایک عالمگیر کتاب بن گئی جس کو مختلف لہجہ رکھنے والے عرب بھی آسانی سے پڑھ سکتے تھے اور وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ کتاب ہماری زبان میں ہی نازل ہوئی ہے۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فَاقْرَءُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنْہُ یعنی جو طریق تم پر آسان ہو اس کے مطابق پڑھو۔اگر ان حروف کے بدلنے یا زیر زبر کے بدلنے سے معانی میں فرق پڑتا تو آپ یہ کیوں فرماتے کہ جس طریق پر پڑھنا تمہیں آسان ہو۔اس طریق پرپڑ ھ لو۔یہ فقرہ صاف بتا تا ہے کہ قرأتوں کا تعلق صرف تلفظ کے ساتھ ہے معانی کے ساتھ نہیں اور اگر کسی جگہ تلفظ سے کوئی وسعت بھی پیدا ہوتی ہے تو اصل معنوں میں فرق نہیں پڑتا۔اصل حکم وہی رہتا ہے جو قرآن کریم دینا چاہتا ہے۔ترتیب سُور اس سورۃ کا سورۂ نُور سے قریبی تعلق یہ ہے کہ سورۂ نور کے آخر میں اسلامی تنظیم کا ذکر تھا اور بتایا گیا تھا کہ کچھ لوگ اس تنظیم کی حقیقت سے آگاہ نہیں اور کفر کے کھوکھلے نظام سے ڈرتے ہیں۔لیکن اُن کا یہ ڈر اور ان کی یہ کمزوری انہیں بچائے گی نہیں بلکہ انہیں اور زیادہ تباہی میں دھکیل دے گی۔اب اس سورۃ میں بتایا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ وہ سب جہانوںکے لئے بطور نذیر آیا ہے اور یہ کہ جو لوگ اُس کی تعلیم کے خلاف چلیں گے وہ نیچر اور اس کے منشاء کے خلاف چلیں گے کیونکہ اس کی تعلیم قانونِ فطرت اور قانونِ نیچر کے مطابق ہے