تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 1
سُوْرَۃُ الْفُرْقَانِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ فرقان۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ ثَمَانٍ وَّ سَبْعُوْنَ اٰیَۃً وَّ سِتَّۃُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی اٹھتر (۷۸) آیات ہیں اور چھ (۶)رکوع ہیں۔۱؎ زمانۂ نزول ۱؎ یہ سورۃ اکثر مفسرین کے قول کے مطابق مکی ہے اور ہجرت سے پہلے نازل ہوئی ہے۔تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اور قتادہ ؓ کے نزدیک اس میں سے تین آیتیں مدنی ہیں اور وہ آیتیں وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ سے لےکر وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا تک ہیں۔یعنی آیات نمبر ۶۸، ۶۹،۷۰ اور ہمارے نزدیک آیات نمبر ۶۹،۷۰،۷۱۔جن لوگوں نے ان آیات کو مدنی قرارد یا ہے اُن کے اس قول کا موجب صرف اتنی بات معلوم ہوتی ہے کہ ان آیات میں قتل نفس اور بدکاری سے روکا گیا ہے اور ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ تمدن اور معاشرت اور سیاست کے متعلق تفصیلی ہدایات مدینہ منورہ میں ملی ہیں اس لئے یہ آیتیں مدنی ہیں مگر یہ کوئی دلیل نہیں۔یہ تعلیم صحابہ ؓ کے اس وقت بھی زیر عمل تھی جب وہ مکہ میں رہتے تھے۔صحابہ ؓ کا چال چلن اور اُن کا طریق صاف بتا تا ہے کہ یہ ہدایتیں اس وقت بھی اُن کے مدنظر رہتی تھیں۔پس محض اس لئے کہ ان آیتوں میں قتل اور بدکاری سے روکا گیا ہے ان کو مدنی قرار دینا ہر گز معقول نہیں سمجھا جا سکتا۔عیسائی مستشرقین نے بھی اس سورۃ کو مکی قرار دیا ہے لیکن اُن کے نزدیک یہ سورۃ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے بالکل ابتدائی وقت کی ہے۔( کمنٹری آن دی قرآن مصنفہ ریورنڈوہیری جلد ۳ ص ۲۰۷) مگر یہ بات بھی صحیح نہیں کیونکہ اُن کی بنیاد صرف اس خیال پر ہے کہ اس سورۃ میں کفار کی شدید مخالفت کا ذکر نہیں حالانکہ بعض مدنی سورتیں بھی ایسی ہیں جن میں کفار کا ذکر قریباً مفقود ہے۔تو کیا ہم اس سے یہ نتیجہ نکالیں کہ مدینہ میں کفار کے ساتھ کوئی جنگ ہوئی ہی نہیں ؟ مضمون کے لحاظ سے بھی یہ سورۃ مکی ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں خاص طور پر یہ امربیان کیا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے مذہب کو قبول نہیں کریں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ کفار سے جھگڑا شروع ہو چکا تھا ( دیکھو آیت ۵۳ ) پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے دو تین سال کی ناز ل شدہ سورتوں میں سے یہ سورۃ ہے۔بخاریؒ اور مسلم ؒ کی روایت ہے اور مالکؒ اور شافعی ؒ اور ابن حبان ؒ اور بہیقی ؒ نے بھی حضرت عمرابن خطاب