تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 595
روح چاہتاہے سووہ ان کے اند رموجود ہے۔اس لئے تجھے اس کام میں کسی قسم کی تکلیف کاسامنانہیں ہوسکتا۔بعض مفسرین نے غلطی سے وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔کے یہ معنے کئے ہیں کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایاگیاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تما م آباء مومن یعنی ساجد تھے۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق احادیث میں آتاہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا۔کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعاکی تھی کہ وہ مجھے اپنی والدہ کے لئے استغفار کی اجازت دےدے مگراللہ تعالیٰ نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی (مسند احمد بن حنبل : مسند ابی ھریرہؓ) اس سے معلوم ہوتاہے کہ مفسرین کایہ نظریہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام آباء مومن تھے درست نہیں۔حضرت عبدالمطلب کے متعلق بھی جہاں توحید کی باتوں کا ذکر آتاہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ وہ ایک دُبدبہ کی حالت میں تھے۔کبھی توحیدکی طرف مائل ہوجاتے تھے اور کبھی شرک کی طرف۔ان کا چاہِ زمزم کی تلاش کے وقت یہ نذر ماننا کہ اگرخداانہیں دس بچے دے گا اوروہ ان کی آنکھوں کے سامنے جوان ہوں گے تووہ ان میں سے ایک کو قربان کردیں گے۔اورپھر ہبل کے سامنے ان کا قرعہ اندازی کرنا بتارہاہے کہ توحید کاصحیح مقام انہوں نے نہیں سمجھا تھا۔پس یہ کہنا کہ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ کے معنے یقینی اورحتمی طورپر یہی ہیں درست نہیں۔اصل معنے یہ ہیںکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی تعریف کرتاہے اورفرماتا ہے کہ تمہارارات دن ایسے لوگوں میں گذرہورہاہے جواللہ تعالیٰ کے پرستار اوراس کی عبادت کرنے والے ہیں۔تقلّب کا لفظ ایسا ہی ہے جیسے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَآءِ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ تیری نظر بار بار اس معاملہ میں آسمان کی طرف اٹھتی ہے۔پس تَقَلُّبٌ کے معنے کسی چیز کی طرف بار بار جانے کے ہوتے ہیں۔اوریہ ایک حقیقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تقلّب صحابہؓمیں ہی تھا۔کبھی جنگی مشاورت ہورہی ہوتی تھی اورجرنیل آپؐ کے گرد جمع ہوتے تھے۔کبھی قضاء کے معاملات کافیصلہ ہورہاہوتاتھا اورقاضی اورتفقہہ رکھنے والے صحابہؓ آپؐ کے گرد جمع ہوتے تھے کبھی تصوّف کے دریابہائے جاتے تھے اورصوفیاء کاگروہ آپؐ کے اردگرد جمع ہوتاتھا۔کبھی صدقہ و خیرات کا ذکر ہورہاہوتاتھا اورصدقہ و خیرات دینے والے آپ کے ارد گرد جمع ہوتے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اوراس کی اطاعت کانمونہ دکھانے والے ہرقسم کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔جس قسم کے کام کی آپؐ کو ضرورت ہوتی تھی نہ صر ف اس کام کے ماہر آپ کے پاس موجو د تھے بلکہ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اوردن رات اس کی پر ستش کرنے والے بھی تھے۔اوررات دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسے ہی لو گوں میں چکر لگارہتاتھا۔تَقَلُّبٌ بھی یہی ہوتاہے کہ اِدھر اُدھر چکر کاٹنا۔