تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 594
بھر تک بھاگتے چلے گئے۔آخر میںنے انہیں جاکر پکڑا اور پوچھا۔آپ بھاگتے کیوں ہیں۔کہنے لگے۔مجھ سے غلطی ہوگئی تھی اس لئے خطرہ تھاکہ مجھے سرکاری آدمی پکڑ کرنہ لےجائیں۔اس دن سے میں نے اپنے دل میں یہ تہیہ کرلیا کہ چاہے کچھ ہوجائے میں نے عربی نہیں پڑھنی اور اگرپڑھنی ہے توانگریزی پڑھنی ہے۔کیونکہ عربی کے اتنے بڑے عالم ہونے کے باوجود جب اس قدر جہالت رہتی ہے کہ گاڑی کے فرسٹ اورتھرڈ کلا س کے ڈبوں کی شناخت بھی نہیں ہو سکتی تواس علم کا فائدہ ہی کیاہے اس لئے اگر یہ مجھے پڑھاناچاہتے ہیں توانگریزی پڑھائیں عربی تومیں کبھی بھی نہیں پڑھوں گا۔اب دیکھو اتنا اعلیٰ پایہ کے عالم و فاضل کا بیٹاباوجود باپ کی خواہش کے کہ وہ علم حاصل کرے دینی علم سے محروم رہ گیا۔پس وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ تربیت اوراصلاح کاکام اتنا عظیم الشان ہے کہ یہ بہت زیادہ محنت چاہتاہے اوریہ کام ایساہے کہ جب تک تربیت اوراصلاح پانے والوں کے اندر جوش اوراخلاص اورفرمانبردار ی کامادہ موجود نہ ہو۔اس کوسرانجام نہیں دیاجاسکتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں مخالفین منکرین اورغیر متبعین کے متعلق فرمایاکہفَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّيْ بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ۔یعنی ان کو تو ڈرالیکن اگر وہ تیری بات نہ مانیں توتُوان سے کہہ دے کہ میں تمہارے اعمال کاذمہ وار نہیں ہوں وہاں مومنوں کے متعلق فرمایا وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ۔الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ۔وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۔درحقیقت اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوجومومنوں کی خبرگیری اورتربیت کاحکم دیاتھا وہ پورا نہیں ہوسکتاتھا جب تک تین باتیں نہ ہوں۔ایک تویہ کہ خدا تعالیٰ کی تائید ہو دوسرے یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اند ران کی تربیت کاکامل جذبہ موجود ہو اورتیسرے یہ کہ جن کی آپؐ تربیت اور خبرگیری کرناچاہتے تھے ان کے اند ر ماننے کاجذبہ موجود ہو۔ان تینوں چیزوں کے متعلق فرماتا ہے (۱) وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِ تواللہ پرتوکل کرکے اس کام کو شروع کردے وہ تیری ضرو رمددکرے گا۔یعنی میں تیری مدد کروں گا۔(۲)الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُ اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے کہ تیرے اندر کیاروح کام کررہی ہے۔یعنی تُو اپنے اندر یہ جذبہ رکھتاہے کہ ان کی تربیت کرے۔آگے فرماتا ہے (۳)وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۔پھر تیسری بات بھی تجھے حاصل ہے یعنی تُو ان لوگوں میں پھرتاہے جوہررنگ میں تیری اطاعت اورفرمانبرداری کاجذبہ اپنے اندر رکھتے ہیں۔یہ تین مشکلات تھیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان آیا ت میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے یہ کام اللہ تعالیٰ کی تائید چاہتاہے۔سومیں تیری مددکرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ کام تیرے اندردوسروں کی تربیت اوراصلاح کرنے کا جذبہ چاہتاہے۔سووہ تیرے اندرموجود ہے۔یہ کام ان لوگوں کے اندر جن کی تو تربیت اورخبرگیری کرناچاہتاہے کامل اطاعت او رفرمانبرداری کی