تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 596

اورآپؐ کا ادھر ادھر چکر کاٹنا صحابہ کی ذات کے لحاظ سے ہی تھا۔پس تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ کے معنے یہ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے اعلیٰ درجہ کے ساتھی ملے ہوئے تھے کہ آپ جس طرف بھی منہ کرتے ادھر ساجد ہی ساجد نظر آتے تھے۔جرنیلوں کی طرف منہ کرتے توآپ ؐکے پاس ساجد جرنیل تھے۔قاضیوں کی طر ف منہ کرتے توآپؐ کے پاس ساجد قاضی تھے۔مدرسوں کی طرف منہ کرتے توآپؐ کے پاس ساجد مدرس تھے۔صوفیاء کی طرف منہ کرتے تو آپؐ کے پاس ساجد صوفیاء تھے۔اقتصاد اور تمدن کے ماہرین کی طرف منہ کرتے توآپ کے پاس ساجد ماہرین اقتصاد اورساجد ماہر ین تمدن تھے۔غرض جس طبقہ کی طرف بھی آپ منہ کرتے آپ کو ایسے لوگ مل جاتے جو اس فن کے بھی ماہرہوتے اوراللہ تعالیٰ کے فرمانبردار اورعبادت گذاربھی ہوتے۔اسی احسان کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے اورفرمایا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے گردو پیش سب موحد ہی موحد ہیںاورتُو رات دن ان موحدین میں پھر تاہے۔یہ ہماراکتنا بڑااحسان ہے کہ مکہ جیسی شرک کی سرزمین میں ہم نے موحد ہی موحد پیداکردیئے ہیں اوران لوگوں کو توحید پرعامل کردیاہے۔جو ایک نہیں دونہیں سینکڑوں بتوں کی پوجاکرتے تھے۔تُو دائیں جاتاہے توتجھے موحد نظرآتے ہیں۔توبائیں جاتاہے تو تجھے موحد نظر آتے ہیں۔توادھر جاتاہے تو تجھے موحد ملتے ہیں اورتو اُدھر جاتاہے تو تجھے موحد ملتے ہیں۔غرض توجہاں بھی جاتاہے تجھے موحد نظر آتے ہیں۔اورمکہ جیسی بستی میں جہاں رات دن بتوں کی پر ستش ہوتی تھی ہم نے تیرے ساتھ موحدین پیداکردیئے ہیں۔پس تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَکاوہ مفہوم نہیں جومفسرین نے سمجھا ہے بلکہ ا س آیت میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کیاگیاہے جواس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا کہ اس نے آپؐ کے گرد ساجد ہی ساجد جمع کردیئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض انبیاء کی بیویاں ان پر ایمان نہیں لائی تھیں۔بعض کی اولاد نے ان کی نبوت کاانکار کردیاتھا۔اور گو بیویوں یا اولاد کے انکار سے نبی کی شا ن میں کوئی فرق نہیںآتالیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں تھیں تو خدا تعالیٰ کے دین پرفدا۔آپؐ کی اولاد تھی تووہ بھی دین پر قربان۔آپؐ کے ساتھی تھے تووہ اسلام کے سچے عاشق۔یہاں تک کہ سب تعلق رکھنے والوںکو اللہ تعالیٰ نے ساجد بنادیا۔اوریہ ایک ایسی خصوصیت ہے جو اور کسی نبی کو نصیب نہیں ہوئی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم توجہاںکہیں جاتاہے موحدین اورساجدین میں پھر تاہے تیرے گھر میں توحید۔تیرے دوستوں میں توحید۔پھر تُو جدھر جاتاہے توحید کابیج بوتاجاتاہے اورتونے ہزاروں مشرکین کو ساجد بنادیاہے۔اس جگہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے ایک حوالہ پر بھی کچھ روشنی ڈالی