تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 593
خان ملک صاحب سے پوچھا۔فرمائیے۔کہاںسے تشریف لارہے ہیں۔انہوں نے کہا۔’’قادیان سے۔‘‘انہوں نے حیران ہوکر پوچھا۔‘‘قادیان سے ‘‘۔انہوں نے کہا۔ہاں قادیان سے۔انہوں نے کہا۔کیوں؟ کہنے لگے۔مرزا صاحب کامرید ہونے کے لئے گیاتھا۔انہوں نے کہا۔آپ اتنے بڑے عالم ہیں آپ نے ان میں کیا خوبی دیکھی کہ ان کے مرید ہونے کے لئے چلے گئے۔مولوی خان ملک صاحب نے پنجابی میں انہیں کہا کہ ’’ تُوں اپنا کم کر تینوں تے قَالَ یَقُوْلُ وی چنگی طرح نہیں آوندا۔‘‘یعنی تُواپنا کام کر تجھے تو ابھی قَالَ یَقُوْلُ بھی اچھی طرح نہیں آتا۔چونکہ مولوی غلام احمد صاحب بھی بڑے مشہور عالم تھے اس لئے جب مولوی خان ملک صاحب نے یہ الفاظ کہے تو مولوی غلام احمد صاحب کے شاگردوں کو سخت غصہ آیا اورانہوں نے مولوی خان ملک صاحب سے مخاطب ہوکر کہا۔بڈھے تُونے یہ کیا بات کہی ہے۔مولوی غلام احمد صاحب نے ان کو منع کیا اورکہا خاموش رہو کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک ہے۔غرض مولوی خان ملک صاحب مرحوم کو صرف و نحو پر اتنا عبور تھا اوروہ اپنے فن میں اتنے ماہر تھے کہ تمام ہندوستان میں ان کا شہرہ تھا اوران کی بعض تصانیف کے متعلق لو گ یہ سمجھتے تھے کہ ان کتب کا لکھنے والا چار پانچ سوسال پہلے کاکوئی عالم ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ ان کا ایک واقعہ سنایاکرتے تھے۔ان کے بڑے لڑکے کانام عبداللہ تھا۔انہوں نے ایک دفعہ عبداللہ کے متعلق حضرت خلیفہ اولؓ سے شکایت کی کہ میرایہ لڑکا علم کی طرف بالکل توجہ نہیں کرتا آپ اس کو سمجھائیں کہ اگرآج اس نے تعلیم حاصل نہ کی تو یہ نقصان اٹھائے گا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے کہ میں نے عبداللہ کو بلوایااورکہا۔تمہارے والد صاحب اپنے علمی پایہ کی وجہ سے سارے ہندوستان میں شہرت رکھتے ہیں تم کیوں نہیں پڑھتے۔وہ کہنے لگا۔میں پڑھتاتوہوں مگروہ مجھے پڑھاتے ہی نہیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔وہ تو میرے پاس شکایت لے کرآئے تھے کہ تم پڑھتے نہیں اور تم کہتے ہوکہ میں پڑھتاہوں اوروہ مجھے پڑھاتے نہیں۔وہ کہنے لگا۔بات دراصل یہ ہے کہ وہ مجھے عربی پڑھنے کے لئے کہتے ہیں اورمیں عربی پڑھنا نہیں چاہتا بلکہ میں انگریزی پڑھناچاہتاہوں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔تم عربی کیوں پڑھنا نہیں چاہتے او رانگریزی کیوں پڑھناچاہتے ہو۔و ہ کہنے لگا۔بات یہ ہے کہ جب نئی نئی ریل آئی تو میں اوروالد صاحب ایک سفر پر گئے۔اورآپ تو کہتے ہیں وہ بڑے عالم ہیں مگران کو اتنابھی پتہ نہ تھا کہ گاڑی میں فرسٹ اورسیکنڈ کلاس بھی ہوتی ہے۔چنانچہ یہ اپنی گٹھڑی اٹھائے ہوئے فسٹ کلاس کےڈبہ میں گھس گئے۔وہاں کوئی اینگلو انڈین ٹکٹ کلکٹرکھڑاتھا اس نے انہیں کہا۔ہٹ بابا تیرایہاں کیاکام ہے۔جب اینگلوانڈین نے ان کو جھڑکا تویہ پلیٹ فارم پر ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔میں ان کے پیچھے دوڑا۔مگریہ اسٹیشن سے دورنکل گئے اورکوئی میل