تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 582
بے پانی اوربے سبزی کے وادیاں ہوا کرتی ہیں گویا بے آب وگیاہ زمین کے کچھ ٹکڑے ہوتے ہیں۔لیکن چونکہ ان میں کوئی کوئی جھاڑی بھی پائی جاتی ہے جس میں اونٹ وغیرہ چر لیتے ہیں اس لئے انہیں وادی کہہ دیا جاتا ہے۔مکہ کے پاس ایک ایسی ہی وادی ابوطالب کی تھی۔ابو طالب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اور ان چند مسلمانوں کو لے کر جو اس وقت مکہ میں تھے اس وادی میں چلے گئے جب وہ اس وادی میں گئے تو وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونہہ پر بعض دفعہ گالیاں دیا کرتے تھے وہ ہاشمی دشمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر پھینکنے میں خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔وہ ہاشمی دشمن جو ابو جہل کو اُکسا اُکسا کر رسول کریم صلی ا للہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچایا کرتے تھے وہ بھی قومی عصبیت اور رشتہ داری کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر اس وادی میں محصور ہوگئے۔اور ان سب نے کہا کہ ہم اپنے رشتہ داروں کو نہیں چھوڑ سکتے (السیرۃ الحلبیۃ جلد اول صفحہ ۳۷۵) تو رشتہ داری بڑا بھاری اثر رکھتی ہے۔اور خونی تعلق کبھی کبھی ایسی قربانیاں بھی کروا لیتا ہے جو دوسرے حالات میں ناممکن نظر آتی ہیں۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے۔اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو دنیا کے کونے کونے کے لوگوں کو ڈرا۔لیکن پہلے اپنے عزیزوں کو ڈرا۔اس لئے کہ ان کا تجھ پر دوہر احق ہے۔ایک حق تو یہ ہے کہ باقی دنیا کی طرح یہ بھی تباہ ہو رہے ہیں اور ایک حق یہ ہے کہ یہ تیرے رشتہ دار ہیں اور ان کے باپ دادوں نے تیرے ساتھ کبھی حسن سلوک کیا تھا۔انگریزی میں بھی مثل مشہور ہے کہ CHARITY BEGINS AT HOME یعنی صدقہ و خیرات پہلے گھر سے شروع ہوتا ہے۔اسی طرح وعظ و نصیحت کا سلسلہ بھی ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہونا چاہیے۔چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی اس طرح تعمیل کی کہ آپ مکہ کے دستور کے مطابق کوہِ صفا پر کھڑے ہوگئے اور آپ نے مختلف قبائل کو نام لے لے کر بلانا شروع کیا۔پہلے آپؐ نے آلِ ؔغالب کوبلایا اور وہ مسجد حرام سے نکل کر کوہِ صفا کے دامن میں آگئے۔اس وقت ابو لہب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آلِ ؔغالب تو آگئے ہیں آپ نے جو کچھ کہنا ہے کہہ دیں مگرآپ نے ابولہب کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور لوئی قبیلہ کے افراد کو آپ نے آوا ز دی۔وہ پہنچ گئے تو ابولہب نے پھر کہا کہ اب تو لوئی قبیلہ بھی آگیا ہے اب تو آپ بتائیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی اس کی بات کو درخورِاعتناء نہ سمجھا اور آلِ مرّہ کو آواز دی۔چنانچہ وہ بھی آگئے۔پھر آپؐ نے آلِ کلاب اور آلِ قصّی کو بلایا۔یہاں تک کہ سب لوگ جمع ہوگئے اور جولوگ خود نہ آسکے انہوں نے اپنا ایلچی بھیج دیا تاکہ وہ معلوم کر کے انہیں اطلاع