تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 583

دے کہ آج انہیں کس غرض کے لئے جمع کیا گیا ہے۔جب مکہ کے تمام قبائل قریش سمیت جمع ہوگئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب شروع کیا اور فرمایا۔دیکھو اگر میں تم سے یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر جمع ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیاتم میری اس بات کو مانوگے یا نہیں۔انہوں نے کہا۔کیوں نہیں ہم آپ کی بات ضرور مانیں گے کیونکہ ہم نے ہمیشہ آپ کو راستباز پایا ہے مکہ کے حالات سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطالبہ درحقیقت ایسا ہی تھا جیسے کسی ناممکن چیز کوممکن تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جائے کیونکہ مکہ کے لوگوں کے جانوروادی میں چراکرتے تھے اور وہ ایسا علاقہ ہے کہ اس میں کسی لشکر کا چھپ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔مگر ان لوگوں پر آپ کی راستبازی کا اس قدر اثر تھا کہ انہوں نے کہا۔خواہ ہماری آنکھیں اس بات کو تسلیم نہ کریں ہم آپ کی بات کو ضرور مانیں گے کیونکہ آپ کی راستبازی ہمارے نزدیک مسلّم ہے۔جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یک زبان ہوکر اپنے اس یقین اور اعتماد کا کا اظہار کیا۔تو آپ نے فرمایا لو سُنو! میں تمہیں ایک اہم خبر سناتا ہوں۔اور وہ خبر یہ ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔پس میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہنا چاہتے ہو تو میر ی اتباع کرو۔آپ کا یہ کہنا تھا کہ ابولہب جوش سے کہنے لگا کہ تَبًّا لَکَ سَائِرَ الْاَیَّامِ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا۔یعنی نعوذ باللہ تجھ پر ہلاکت ہو۔اتنی سی بات کے لئے تُو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔اور اسی طرح دوسرے لوگ ہنسی مذاق کرتے اور تمسخر اڑاتے ہوئے منتشر ہوگئے(بخاری کتا ب التفسیر زیرِ آیت و انذرعشیر تک الاقربین وتفسیر رازی زیرِآیت تبّت یداابی لھب وتبّ۔وتفسیر رُوح المعانی زیرِ آیت سورۃلھب)۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کی مخالفت اور تمسخر اور استہزاء کے باوجود اشاعت توحید کے کام کو جاری رکھا اور متواتر لوگوںکو پیغامِ حق پہنچاتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں میں سے ایسے لوگ پید اکر دیئے جنہوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی جانیں تک قربان کردیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پر کچھ نہ کچھ بیداری کے اوقات بھی آتے ہیں۔اور جب کسی پر بیداری کی گھڑی آتی ہے اور اس کے دل کی کھڑکی کھلتی ہے تو وہ سچائی کو قبول کرلیتا ہے۔آخر وہ لوگ بھی تھے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے دن ایمان لائے۔جیسے حضرت ابو بکرؓ۔حضرت خدیجہؓ۔حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ۔اور وہ لوگ بھی تھے جو آپ پر کئی سال بعد ایمان لائے جیسے حضرت خالدبن ولیدؓ اور حضرت عمر وبن العاصؓ وغیرہ۔بیشک خالد بن ولیدؓ میں پہلے سال بھی عقل موجو دتھی۔لیکن فر ق یہ تھا کہ پہلے سا ل ان کے دل کی کھڑکی نہیں کھلی تھی۔حضرت عمرو بن العاصؓ میں بھی عقل موجود تھی جو انہیں پہلے سال مسلمان بنا سکتی تھی لیکن ان کے دل کی کھڑکی بھی نہیں کھلی تھی۔حضرت ابو بکرؓ۔