تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 581
میں کہا اے چچا جو پیغام میں لایاہوں و ہ خدا نے میرے سپرد کیا ہے۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی کے کہنے پر میں اسے چھوڑ دوں۔اے میرے چچا ! میں جانتاہوں کہ خداایک ہے لیکن میں اپنی قوم کی خاطر یہ نہیں کہہ سکتا کہ خدایک نہیں۔اگرمیری قوم سورج کو میرے دائیں اورچاند کو میرے بائیں بھی لاکر کھڑا کردے اوراتنا بڑانشان دکھائے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی اورپھر کہے کہ اب بھی یہ مان جائو کہ دنیا کاپیداکرنے والا خداایک نہیں تب بھی میں ایسانہیں کرسکتا۔اے میرے چچا ! میں آپ سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ آپ میری خاطر اتنی بڑی قربانی کریں۔آپ نے جوخدمت کی ہے۔میں اس کاممنون ہوں۔لیکن آئندہ کے لئے میں یہ بوجھ آپ پر ڈالنا نہیں چاہتا۔آپ بیشک میراساتھ چھوڑ دیں اوراپنی قوم سے کہہ دیں کہ میں نے اپنے بھتیجے کو چھوڑ دیا ہے اوراب میں تمہارے ساتھ ہوں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اوریقین کے ساتھ یہ حیرت انگیز محبت ایک طرف تھی اوردوسری طرف وہ محبت کھڑی دیکھ رہی تھی جو ابو طالب کو اپنے بھتیجے کے ساتھ تھی۔ابوطالب اس وقت ان دومحبتوں کے درمیان آگئے۔یوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کے بھتیجے تھے مگرابو طالب نے اپنے بیٹوں سے بڑھ کر آپؐ سے محبت کی اوراپنے بیٹوں سے زیادہ آپ کی خبر گیری کی۔پس ایک طرف و ہ محبت کھڑی تھی جو ابو طالب کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور دوسری طرف بھتیجے کایہ یقین اورایمان تھا کہ میں نے جس صداقت کو قبول کیاہے میں اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ان کی ایک آنکھ کے سامنے بیک وقت یہ دومحبتیں آکر کھڑی ہوگئیں اوردوسری آنکھ کے سامنے ان کے باپ عبدالمطلب کی روح آکر کھڑی ہوگئی جنہوں نے مرتے وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاہاتھ ابوطالب کے ہاتھ میں یہ کہتے ہوئے دیاتھا کہ ابوطالب اس کاباپ فوت ہوگیاہے اس کی ماں بھی فوت ہوگئی ہے۔میں نے اس کو اپنے بچوں سے زیادہ عزیز سمجھ کر پالا ہے۔اب میں مرنے لگاہوں اورمجھ کو تجھ پر یہ اعتبار ہے کہ تواس کام میں سستی اور کوتاہی نہیں کرے گا۔میں اپنی سب سے زیادہ قیمتی امانت تیرے سپرد کرتاہوں۔غرض باپ کی روح ایک طرف کھڑی تھی اورصداقت کے فدائی اورسچائی پر جان دینے والے بھتیجے کی روح دوسری طرف کھڑی تھی مگر باوجود اسلام نہ لانے کے ابوطالب ان دومحبتوں کا مقابلہ نہ کرسکے اورانہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ اے میرے بیٹے !جائو! اورجس چیز کو سچا سمجھتے ہو پھیلائو۔قوم کا مذہب تومیں نہیں چھوڑ سکتا۔لیکن تیری خاطر اگر قوم مجھے چھوڑ دے تومیں تیرے لئے یہ قربانی بھی کروں گا۔اورہمیشہ تیراساتھ دوں گا۔تب قوم نے یہ فیصلہ کیا کہ بنو ہاشم کا مقاطعہ کیا جائے اس اعلان پر بنو ہاشم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ایک وادی میں جوابو طالب کی ملکیت میں تھی چلے گئے۔وادی سے مراد کوئی سبز وشاداب علاقہ یا وسیع زمین کا ٹکڑ ا نہیں بلکہ مکہ میں