تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 580

اَلتَّقَلُّبُ:اَلتَّصَرُّفُ یعنی تَقَلّبٌ کے معنے ادھر سے ادھر آنے جانے کے ہیں (مفردات) تفسیر۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۔یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تُو دنیا کو ڈرا اوراسے بیدار اورہوشیار کر مگر پہلے اپنے رشتہ داروں اورقریبیوں کو ڈرا کیونکہ ان کا تجھ پر دوہراحق ہے۔حقیقت یہ ہے کہ رشتہ داریاں دنیا میں بڑابھاری اثر رکھتی ہیں۔اورتاریخ میں اس کے اثرات کی بعض حیرت انگیز مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت جب تبلیغ شروع کی اورکفار نے انتہائی طور پر ہررنگ میں اپنا اثر استعمال کرلیا اور کسی طرح بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم اورحق کے اعلان کو نہ چھوڑا۔تومکہ کے لوگ ابوطالب کے پاس آئے اورانہیں کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو سمجھا لیجئے ورنہ ہم مجبور ہوجائیں گے کہ اس کے ساتھ آپ کا بھی بائیکاٹ کردیں۔حضرت ابوطالب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوبلایااوران سے کہا کہ اے میرے بھتیجے آج تک میں نے تیراساتھ دیاہے مگرآج میری قوم کے لوگ میرے پاس آئے ہیں۔اورانہوں نے کہا ہے کہ ابو طالب ہم تیرابہت لحاظ کرتے رہے ہیں مگرآج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگرتومحمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو نہیں چھوڑے گا اوراس کی حمایت بدستور کرتاچلاجائے گا توہم تیری سرداری سے بھی انکار کردیں گے۔ابوطالب ایک غریب آدمی تھے۔مگروہ ساراوقت اپنی قوم کی خدمت میں لگاتے تھے اس لئے ان کی ساری جائیداد ہی قوم کی محبت تھی۔دنیاکے کچھ لوگ کمانے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اور کچھ قوم کی خدمت میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔کمانے والے اپنا بدلہ روپیہ کی صورت میں لے لیتے ہیں۔مگرخدمت کرنے والے اپنابدلہ قوم کی محبت کی صورت میں لیتے ہیں۔ابو طالب چونکہ دن رات اپنی قوم کی خدمت میں مصروف رہتے تھے۔اس لئے ان کی ساری کمائی ہی یہی تھی کہ وہ قوم کی خدمت کرتے تھے اورقوم انہیں سلام کرتی تھی اس لئے جب قوم کی طرف سے انہیں یہ نوٹس ملا توانہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایااورکہا۔اے میرے بیٹے میری قوم آج کہہ رہی ہے کہ اگر تُو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کونہیں چھوڑ سکتاتوپھر ہم بھی تجھ کو چھوڑ دیں گے۔اس وقت یہ خیال کرکے کہ ساری عمر میں نے اپنی قوم کی خدمت میں لگادی تھی مگر آج بڑھاپے میں آکر وہی قوم مجھے چھوڑنے کے لئے تیار ہوگئی ہے حضرت ابو طالب پر رقت طاری ہوئی اوران کی آنکھو ں میں آنسوآگئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی یہ دیکھ کرکہ میرے چچا باوجود اس کے کہ مسلمان نہیں ہمیشہ میری خدمت کرتے رہے ہیں اورہمیشہ انہوں نے میری تائید کی ہے اوراب میری خدمت اورمیری تائید کی وجہ سے ان کی ایک ہی قیمتی دولت جو ان کے پاس تھی یعنی قوم میں عزت وہ کھوئی جانے لگی ہے رقت طاری ہوگئی۔آپ کی آنکھوںمیں آنسو آگئے اور آپ نے بھرائی ہوئی آواز