تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 579
وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَۙ۰۰۲۱۵وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ اورتُو (سب سے پہلے)اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔اورجوتیرے پاس مومن ہوکر آئیں ان لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۲۱۶فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّيْ کے لئے محبت کے بازو جھکادے پھر اگر و ہ تیری نافرمانی کربیٹھیں توکہہ دے کہ میں تمہارے عمل سے بیزارہوں بَرِيْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ۰۰۲۱۷وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيْزِ الرَّحِيْمِۙ۰۰۲۱۸ اورغالب (اور) بار بار کرم کرنے والی ہستی پرتوکل کر۔جو تجھے اس وقت بھی دیکھتاہے جب تو اکیلا نماز کے الَّذِيْ يَرٰىكَ حِيْنَ تَقُوْمُۙ۰۰۲۱۹وَ تَقَلُّبَكَ فِي السّٰجِدِيْنَ۰۰۲۲۰ لئے کھڑاہوتاہے۔اوراس وقت بھی جبکہ تُو (نماز باجماعت کے لئے )سجدہ کرنے والی جماعت میں اِدھر اُدھر پھر اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۲۲۱ رہاہوتاہے۔یقیناً وہ (خداہی) بہت سننے والا (اور)بہت جاننے والا ہے۔حلّ لُغَات۔عَشِیْرَۃٌ۔اَلْعَشِیْرُ الْقَبِیْلَۃُ وَالْقَرِیْبُ وَالصَّدِیْقُ وَزَوْجُ المَرْأَۃِ وَالمُعَاشِرُ۔یعنی عَشِیْرَۃٌ کے معنے قبیلہ کے بھی ہوتے ہیں۔دوست کے بھی ہوتے ہیں۔خاوند کے بھی ہوتے ہیں اورہمسائے کے بھی ہوتے ہیں۔(اقرب) اِخْفِضْ۔اِخْفِضْ خَفَضَ یَخْفِضُ سے امر کاصیغہ ہے اور خَفَضَ کے معنے ہیں۔نیچا کیا۔اور وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُوْمِنِیْنَ کے معنے ہیں تَوَاضِعْ لَھُمْ۔کہ مومنوں کے ساتھ خاکساری کے ساتھ پیش آ۔اوران سے ملتارہ تاکہ ان کی تربیت ہوتی رہے۔(اقرب) تَقَلُّبَکَ۔تَقَلُّبٌ تَقَلَّبَ کامصدر ہے۔اورتَقَلَّبَ عَلیٰ فِرَاشِہٖ کے معنے ہیں تَحَوَّلَ مِنْ جَانِبٍ اِلیٰ جانِبٍ۔وہ اپنے بستر میں ایک طرف سے دوسری طرف ہوتارہا نیز جب یہ فقرہ کہیں کہ ھُوَ یَتَقَلَّبُ فِیْ اَعْمَالِ السُّلْطَانِ تومعنے ہوتے ہیںیَتَنَقَّلُ مِنْ عَمَلٍ اِلیٰ عَمَلٍ۔یعنی وہ بادشاہ کے مختلف کاموں میں ادھر سے ادھر جاتاہے۔(اقرب)