تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 578
قرآن کریم بھی یہی دلیل مخالفوںکے سامنے پیش کرتاہے۔اورانہیں توجہ دلاتاہے کہ اگرتمہارایہ اعتراض صحیح ہو کہ شیطان نے یہ کلام نازل کیا ہے تواس کے معنے یہ ہوں گے کہ شیطان نے اپنا بیڑہ آپ غرق کرلیا۔کیونکہ اس کتاب کے لفظ لفظ میں شیطان کو دھتکاراگیاہے اوراس کی ایک ایک تعلیم میں اس پر پھٹکار ڈالی گئی ہے۔اب یہ کس طرح تسلیم کیاجاسکتاہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف اتنا بڑامواد فراہم کردیا۔یہ تو عقل کے بالکل خلاف ہے۔اسی طرح وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ میں جو دلیل استعمال کی گئی ہے کہ اس قرآن میں توغیب کی خبریں ہیں اورغیب کی خبریں بیان کرنا شیطان کے اقتدار سے باہر ہے۔اسے بھی انجیل میں استعمال کیاگیاہے اور حضرت مسیح ؑ نے واضح کیا ہے کہ علم غیب صرف خداتعالی کو حاصل ہے اورشیاطین تو الگ رہے فرشتے بھی اس کےرازوں سے آگاہ نہیں۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت مسیح ؑ نے جب اپنی آمد ثانی کی علامات بتائیں تواس کے ساتھ ہی آ پ نے اس امر کی بھی وضاحت فرما دی کہ گومیری یہ باتیں کبھی نہیں ٹلیں گی۔’’لیکن اس دن اوراس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے۔نہ بیٹا۔مگر صرف باپ۔جیسانوح کے دنوں میں ہواویساہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔کیونکہ جس طرح طوفان کے پہلے سے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اوربیاہ شادی کرتے تھے اس دن تک کہ نوح کی کشتی میں داخل ہوا۔اورجب تک طوفان آکر ان سب کو بہا نہ لے گیا ان کو خبر نہ ہوئی اسی طرح ابن آدم کاآناہوگا۔‘‘ (لوقاباب ۲۴آیت ۳۶تا۴۰) غرض محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور بے عیب زندگی اورآپؐ کی تعلیم کا پاک اورمطہرہونااورپھر قرآن کریم میں آسمانی علوم اور غیب کی خبروں کا بکثرت اظہار اور شیاطین کا آسمانی علوم کے بیان کرنے کی طاقت ہی نہ رکھنا بتارہاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو یہ الزام لگایاجارہاہے کہ آپؐ کے ساتھ شیطان کاتعلق ہے اور اس نے آپ پر یہ کلام نازل کردیاہے سراسرغلط اعتراض ہے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاشیطان سے نہیں بلکہ خدا سے تعلق ہے اوراسی نے آپ پر یہ کلام نازل فرمایا ہے۔پھر فرماتا ہے فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتَکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ۔اے مسلمان!تُوخداکے سواکسی معبود سے دعانہ کر۔کیونکہ فطرت صحیحہ کے راز صرف خدا سے مل سکتے ہیں۔اورکوئی غیر اللہ اس میں تیری مدد نہیں کرسکتا۔اگرتوفطرت صحیحہ کے راز معلوم کرنے کے لئے غیر اللہ کی طرف جائے گا تو فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ۠ اس کی طرف سے جوتعلیم تجھے ملے گی۔اس کے نتیجہ میں تو دکھ ہی دکھ اٹھائے گا کوئی سکھ تجھے نصیب نہ ہوگا۔