تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 577
ہیں اوراس میںشیطانی کلام کا اس قد ر ردّ ہے کہ اگر شیطان یا اس کے ساتھی اس میں کچھ ملانا بھی چاہیں تونہیں ملا سکتے کیونکہ کہیں کوئی عبارت کھپ ہی نہیں سکتی اورپھر وہ آسمانی علوم کے بیان کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے کیونکہ اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان کی باتیں سننے سے محروم کیا ہواہے گویا آسمان پر جاکر باتیں سننا تو الگ رہا وہاں تک کسی کے جانے کی طاقت بھی قرآن کریم نے تسلیم نہیں کی مگر عجیب بات یہ ہے کہ بعض مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیطان آسمان پر جاتاہے اوروہ ملاء اعلیٰ اورجبریلؑ اورعرش کی باتوں کو سن کر زمین پر آجاتاہے اورپھر وہ اپنے چیلے چانٹوں کو وہ خبریں بتاتاپھر تاہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ شیطان آسمانی کلام سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتا۔خداتو خداہے۔اس دنیا کے معمولی معمولی بادشاہوں کے پاس پھٹکنے کی بھی لوگوں میں طاقت نہیں ہوتی اوروہ ان کے قریب جانے سے لرزتے اورگھبراتے ہیں۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ زمین و آسمان کے خداکے راز شیطان اُچک کر لے آئے۔اور وہ انہیں بگاڑ کر دنیا میں پھیلا نا شروع کردے۔غرض قرآن کریم کفار کے اس الزام کی تردید کرتاہے اوربتاتاہے کہ شیاطین نے اس کلام کو نازل نہیں کیا اوریہ کام نہ ان کے مناسب حال تھا اورنہ وہ اس کی طاقت رکھتے تھے۔یعنی قرآن کریم میں تو وہ وہ نصیحتیں ہیں جو شیطانی تعلیموں کے بالکل خلاف ہیں۔پھر یہ کس طرح تسلیم کیاجاسکتاہے کہ شیطان نے خود اپنے خلاف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تعلیم نازل کردی۔یہ دلیل حضرت مسیح ؑ نے بھی انجیل میں استعمال کی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ :۔’’ پھر وہ ایک گونگی بدروح کو نکال رہاتھا۔اورجب وہ بدروح نکل گئی توایساہواکہ گونگابولا اورلوگوں نے تعجب کیا۔لیکن ان میں سے بعض نے کہا۔یہ توبدروحوں کے سردار بعلز بول کی مددسے بدروحوں کو نکالتاہے۔بعض اورلوگ آزمائش کے لئے اس سے آسمانی نشان طلب کرنے لگے۔مگر اس نے ان کے خیالات کو جان کر ان سے کہا جس سلطنت میں پھو ٹ پڑے وہ ویران ہوجاتی ہے اورجس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے اوراگر شیطان بھی اپنا مخالف ہوجائے تو اس کی سلطنت کس طرح قائم رہے گی کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدروحوں کو بعلز بول کی مدد سے نکالتاہے۔‘‘ (لوقا باب ۱۱آیت ۱۴تا۱۸) اسی طرح متی میں لکھاہے کہ حضرت مسیح ؑ نے ان سے کہا :۔’’ اگرشیطان ہی نے شیطان کو نکالا تووہ آپ اپنا مخالف ہوگیا۔پھر اس کی بادشاہی کس طرح قائم رہے گی۔‘‘ (متی باب ۱۲ آیت ۲۶)