تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 568
اوربراہین کابھی ذخیرہ رکھتی ہے۔گویا قرآن کریم کا صرف عربی زبان میں ہونا معجزہ نہیں بلکہ قرآن کا عَرَبیٌّ مُبِیْنٌ ہونے میں معجزہ ہے۔یعنی اس کی ایسی زبان ہے کہ اس کے اندر دلائل بھی بیان کئے گئے ہیں اوربتایاگیاہے کہ ہم کیوں حکم دیتے ہیں۔خدا تعالیٰ کوکیوں منواتے ہیں فرشتوںکو کیوں منواتے ہیں۔رسولوں کو کیوں منواتے ہیں۔جھوٹ سے کیوں منع کرتے ہیں۔سچ کی کیوں تائید کرتے ہیں ظلم سے کیوںروکتے ہیں۔انصاف کی کیوں تائید کرتے ہیں۔غرض یہ عَرَبِیٌّ مُّبِیْن میں ہے اوراپنے احکام کی دلیلیں بھی دیتاہے۔جھوٹاآدمی بات تو کہہ دے گا مگر اس کی دلیل کہاں سے لائے گا۔مگریہ کلام تو ایسی زبان میں نازل ہواہے جوعر بی ہی نہیں بلکہ مبین بھی ہے۔یعنی جوبات بھی کہتی ہے اس کو کھول کر رکھ دیتی ہے اوراس کی معقولیت کےدلائل بھی دیتی ہے۔پھر فرمایا وَ اِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔قرآن کریم کو ایک اور فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ اس کا ذکر پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔اوران میں صراحتاً اس کے نزول کی خبر دی گئی ہے۔بلکہ یہ بھی بتایاگیاہے کہ وہ کلام دنیا کوایک عربی نبی کی زبان سے سنایاجائے گا۔چنانچہ مثال کے طور پر اس کے ثبوت میں یسعیاہ نبی کی ایک پیشگوئی کا ذکر کیا جاتا ہے۔وہ اپنی کتاب کے اٹھائیسویں باب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی پیشگوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔’’ وہ کس کو دانش سکھائے گا۔کس کو وعظ کرکے سمجھائے گا۔ان کو جن کا دودھ چھڑایاگیا جو چھاتیوں سے جداکئے گئے کیونکہ حکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون ہوتا جاتا۔تھوڑا یہاں تھوڑاوہاں۔وہ وحشی کے سے ہونٹوں اوراجنبی زبان سے اس گروہ کے ساتھ باتیں کرے گا کہ اس نے ان سے کہا کہ یہ وہ آرام گاہ ہے۔تم ان کو جو تھکے ہوئے ہیں آرام دیجیئو۔اوریہ چین کی حالت ہے۔پر وَے شنوانہ ہوئے۔سوخدا کاکلام ان سے یہ ہو گاحکم پر حکم۔حکم پر حکم۔قانون پر قانون۔قانون پر قانون۔تھوڑایہاں تھوڑاوہاں۔تاکہ وَے چلے جاویں اورپچھاڑی گریں اور شکست کھا ئیں اور دام میں پھنسیں اورگرفتار وہویں۔‘‘ (یسعیاہ باب ۲۸ آیت ۹تا ۱۳) یسعیاہ نبی نے اس کلام میں یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک زمانہ میں اللہ تعالیٰ پھر لوگوں کی روحانی تشنگی اوربھوک کودور کرنے کے لئے آسمان سے اپنادودھ نازل فرمائے گا۔مگر یہ دودھ اس قوم کو پلایاجائے گا جس کے افراد ایک لمبے عرصہ سے چھاتیوں سے جدارہ چکے ہوں گے۔یعنی جن پر فترت کا ایک لمبا زمانہ آچکا ہوگا۔اوراس کلام کی ایک خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ یکدم نازل نہیں ہوگا اورنہ کسی ایک شہر اورمقام میں نازل ہوگا۔بلکہ قانون پر قانون اورحکم پر