تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 569
حکم مختلف مقامات میں نازل ہوگااورایک لمبے زمانہ میں اس الٰہی قانون کی تکمیل ہوگی۔پھر اس کلام کاایک اَوروصف یہ ہوگا کہ وہ ایک اجنبی یعنی غیر زبان میں نازل ہوگا۔اورآنے والا مقدس رسول وحشی کے سے ہونٹوں کے ساتھ گفتگو کرے گا۔یہ وحشی کا لفظ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عربی نبی ہونے کی طرف اشارہ کررہاہے کیونکہ بائیبل کی اصطلاح میں عربوں کے لئے وحشی کالفظ استعمال ہوتاہے۔اسی بناء پر پیدائش باب ۱۶ آیت ۱۲ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی ’’وحشی ‘‘قرار دیاگیاہے۔درحقیقت یہ لفظ اس تعصّب کے اظہار کے لئے بنواسرائیل نے اختیار کیاتھا جوان کے دلوں میں بنو اسماعیل کے متعلق پایا جاتا ہے۔اگر وہ تعصب کا شکار نہ ہوتے توآسانی سے وہ عرب کالفاظ استعمال کرسکتے تھے۔مگر انہوں نے اس لفظ کو اختیار کرنے کی بجائے پہلے اس کا ترجمہ کیا اورپھر ترجمہ کے لئے بھی وحشی کالفظ اختیار کرلیا۔اس لفظ کا انتخاب اس بناء پر کیا گیا کہ عربی زبان میں ع ر ب کے معنے اپنے مافی الضمیرکوپوری عمدگی کے ساتھ بیان کرنے کے ہوتے ہیں اورعربوں کانام عرب بھی اسی لئے رکھا گیاتھا کہ وہ ادب کے دلدادہ اورنہایت فصیح و بلیغ کلام کرنے کے عادی تھے۔مگرچونکہ وہ جنگلوں میں رہتے تھے اورخیموں میں ان کی زندگی کٹتی تھی ان کے مخالف انہیں خیموں اورجنگلوں میں رہنے والا کہنے کی بجائے وحشی کہنے لگ گئے۔اوربائیبل نے بھی یہی طریق اختیارکیا۔اسی وجہ سے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ’’وحشی کے سے ہونٹوںسے کلام کرے گا ‘‘ یعنی وہ عرب میں مبعوث ہو گا۔اورعربی میںاس پر کلام الٰہی نازل ہوگا۔چنانچہ اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے پہلےبِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ کے الفاظ لائے گئے ہیں اورپھر کہا گیاہے کہ تمہیں اس کلام کے قبول کرنے میں کسی قسم کے تردّد اورہچکچاہٹ سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ تمہارے اپنے نبیوں کی کتابوں میں اس کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں(اس بار ہ میں تفصیلات کے شائق تفسیر کبیرسورئہ بقرہ آیت ۴۳ملاحظہ فرمائیں جہاں بائیبل کی ان پیشگوئیوں کاتفصیلی ذکرموجود ہے )۔پھر فرمایا۔اَوَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ۔کیا ان کے لئے یہ نشان کم ہے کہ اس قرآن کو علمائے بنی اسرائیل بھی پہچانتے ہیں۔یعنی بنی اسرائیل کے انبیاء نے جب اس قرآن کی خبر دی ہے۔اوروہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں پہلے گذر چکے تھے اوران کی بتائی ہوئی خبریں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورقرآن کریم پر پوری اتر آئی ہیں توکیا قرآن کریم کے ما ننے کے لئے یہ نشان کافی نہیں۔اس آیت سے ایک اورمسئلہ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔اوروہ یہ کہ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وَاِنَّہٗ لَفِیْ زُبُرِ الْاَوَّلِیْنَ یعنی قرآن کریم کاپہلی کتابوں میں بھی ذکر ہے۔اورکتابیں ہمیشہ نبیوں پر ہی نازل