تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 567

لیتاہوں۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ وحی زبان اورکان اورآنکھوں پر بھی نازل ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی اس کا دل پر بھی نزول ہوتاہے۔جس کی وجہ سے وہ شخص جس پر وحی نازل ہوتی ہے سب سے بڑامومن ہو جاتاہے کیونکہ اس کے کانوں اورزبان کے ساتھ ساتھ اس کے دل پر بھی وحی کا نزول ہوتاہے۔اور چونکہ سارے عقائد اورخیالات دل سے ہی پیدا ہوتے ہیں اس لئے اگر دل پر وحی نازل ہوگئی تو یہ ساری چیز یں آپ ہی آپ درست ہوجاتی ہیں۔غرض وحی کے کئی مراتب ہوتے ہیں۔انبیائے تشریعی کی وحی اَوردرجہ کی ہوتی ہے اورانبیائے بروزی اورظلّی کی وحی اَور درجہ کی ہوتی ہے انبیائے بروزی اورظلّی وحی کو بھی بھول سکتے ہیں۔انبیائے تشریعی شرعی وحی کو نہیں بھولتے۔کیونکہ اگرشریعت ہی بھول جائے توا ن کی امت تباہ ہوجائے۔اسی طرح انبیائے بروزی اورظلّی کی ایسی وحی بھی جو کسی پہلی وحی کی تفصیل بیان کرنے یا کسی خاص نکتہ معرفت کے بیان کرنے کے لئے آتی ہے وہ بھی نہیں بھولتی کیونکہ اس کے لئے بھی وہی قانون جاری ہے جوشرعی وحی کے لئے ہے اوراس کی بھی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ عام وحی کی بھی ایک قسم کی حفاظت ہوتی ہے مثلا اگر یہ وحی ہو کہ فلاں شخص مر جائے گا یا طاعون آجائے گی تو اس وحی کی بھی ایک قسم کی حفاظت ہو تی ہےکیونکہ اگر وہ اخبار غیبیہ جن پر خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو اطلاع دیتاہے ساری کی ساری بھول جائیں تووہ لوگوںکو سنائی کیسے جاسکیں۔لیکن بہرحال اسے وہ مقام حاصل نہیں ہوتاجو تشریعی وحی کو حاصل ہوتاہے کہ اس کے ایک ایک لفظ اورایک ایک شعشہ کی حفاظت ہوتی ہے۔پھر فرماتا ہے بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ اسے خدا تعالیٰ نے ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو اپنے مطالب کو خوب کھول کر بیان کرنے والی ہے۔درحقیقت کسی کلام کی حفاظت کا ایک یہ بھی پہلوہوتاہے کہ جوکلام نازل ہو اس کو سمجھنے والے لوگ دنیا میں پائے جاتے ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم کو حفاظت کے اس پہلو سے بھی نوازاہے اوراسے ایک ایسی زبان میں نازل کیا ہے جو اپنے مضمون کو آپ واضح کرتی ہے اورپھر وہ ہرقسم کے دلائل بھی اپنے اند ررکھتی ہے۔مفرداتؔ راغب جو قرآنی لغت کی مشہور کتا ب ہے اس میں اَلْعَرَبِیُّ کے معنے اَلْمُفْصِحُ کے لکھے ہیں یعنی اپنے مدعاکو خوب صفائی اوروضاحت کے ساتھ بیان کرنے والا اوراَلْاِعْرَابُ کے معنے کھولنے اورواضح کرنے کے لکھے ہیں۔پس بِلِسَانٍ عَرَبِیٍٍّّ میں تو یہ بتایاکہ اللہ تعالیٰ نے اپناآخری شرعی کلام اس زبان میں نازل فرمایا ہے جومطالب کے اظہار کے لئے اپنے اندر پوراسامان رکھتی ہے اورہرمسئلہ پوری وضاحت اورتفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے او ر مُبین میں یہ بتایاکہ وہ صرف مقاصد کے اظہار پر ہی قدرت نہیں رکھتی بلکہ اپنے ساتھ دلائل