تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 566

نہیں آپ پر جو کلام نازل کیا جارہاہے۔یہ شریعتِ الٰہیہ کاحامل ہے اورشرعی الہام بھولانہیں کرتا۔کیونکہ اگر وہ بھول جائے تو وحی متلوّ ہی ادھو ری رہ جائے۔ہاں ہم یہ کلام پڑھ لیا کریں تواس کے بعد توبھی اسے پڑھ لیا کر۔یہ آیت اس امر پر نصّ صریح ہے کہ قرآن کریم صر ف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مطہّر پر ہی نازل نہیں ہوتاتھا بلکہ وہ التزاماً آپ کو پڑھایابھی جاتاتھا اورپڑھایااسی صورت میں جاسکتاہے جب کہ وہ آپؐ پر معین الفاظ میں نازل ہوتا۔اسی طرح قرآن کریم صراحتاً اس کلام کو کلام اللہ قرار دیتاہے جس سے نہ صرف اس وسوسہ کو دور کیاگیا ہے کہ نعوذ باللہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو خیالات پیدا ہوتے تھے انہی کو آپؐ وحی الٰہی قرار دےدیتے تھے۔بلکہ کلام اللہ کہہ کر اس بات کی طرف بھی اشار ہ کیاگیاہے کہ اس کتاب میں شروع سے لے کر آخر تک جو کچھ لکھا ہے یہ سب کا سب اللہ تعالیٰ کاکلام ہے۔اس میں کسی کے دل کے خیالا ت کا تو کیا ذکر ہے کوئی ایک لفظ بھی ایسانہیں جو کسی ا نسان کا بنایا ہواہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ(التوبۃ :۶)یعنی اگر ان مشرکوں میں سے جو تجھ سے برسرِ جنگ ہیں کوئی شخص پناہ مانگے۔توتُواسے پناہ دے تاکہ وہ اس کتاب کو سن سکے جو تجھ پر نازل ہوئی ہے اورجو ساری کی ساری کلام اللہ ہے۔پھر جب وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن لے اورچاہے کہ اپنی قوم کے لوگوں کے پاس واپس چلا جائے توچاہیے کہ اسے پو ری حفاظت کے ساتھ اس علاقہ میں پہنچا دیاجائے جواس کےلئے امن کا مقام ہے۔اسی طرح قرآن کریم کا یہ فرمانا کہ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ۔خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔(العلق:۲۔۳)یعنی اے محمد ؐرسول اللہ! تواپنے رب کانام لے کر پڑھ جس نے سب اشیاء کو پیدا کیاہے۔تُواپنے اس رب کانام لے کر پڑھ جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیاہے۔یہ بھی بتاتاہے کہ قرآنی آیات معین الفاظ میں آپؐ پر نازل ہوتی تھیں جن کی آپ پو ری طرح تلاوت فرماسکتے تھے۔پھر قرآن کریم کابار بار یہ فرماناکہ قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ یا قُلْ یٰاَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ یاقُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ یا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ یہ سب آیات وحیٔ الفاظ پر دلالت کرتی ہیں۔اسی طرح حدیث میں آتاہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بعض اوقات مجھ پر وحی صلصلۃ الجرس کی طرح آتی ہے اور صلصلۃ الجرس یعنی گھنٹی کی آواز کو کان کے ذریعہ سناجاتاہے۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں وَاَحْیَانًایَتَمَثَّلُ لِیَ الْمَلَکُ رَجُلًافَیُکَلِّمُنِیْ فَاَعِی مایقُوْلُ (بخاری باب کیف کان بدء الوحی)یعنی کبھی اللہ تعالیٰ کافرشتہ آدمی کی شکل میں متمثّل ہوکر میرے پاس آجاتاہے اوروہ مجھ سے کلام کرتاہے جسے میں اپنے دما غ میں محفوظ رکھ