تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 553
کا حقدار ہے۔بلکہ اس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ میری چچی مجھے کچھ دیتی ہے یا نہیں۔باقی تمام بچے چمٹ چمٹ کر مانگتے ہیں اصرار کر کے مانگتے ہیں مگر وہ ایک گوشہ میں کھڑے یہ خیال کرتا ہے کہ دنیا میں میراحصہ ہے ہی نہیں۔میں اگر مانگوں تو کیوں مانگوں۔اور اگر مانگوں تو کس سے مانگوں۔لیکن خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی بسر کرنے کے بعد وہی بے کس اوریتیم جب فوت ہوتا ہے تو دنیا میں اس کے سوا کسی اور کا حصہ باقی نہیں رہتا۔ساری ہی دنیا اس کی ہوجاتی ہے۔اور دنیا ہی نہیں خالق کون ومکاں بھی کہتاہے کہ لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (تفسیر روح المعانی للآ لوسی قولہ تعالیٰ رب السموت والارض وما بینھما۔۔)اے محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی زمانہ تھا کہ تو یہ سمجھا کرتا تھا کہ مٹھائی کی ایک ڈلی۔روٹی کے ایک ٹکڑے اور گوشت کی ایک بوٹی میں بھی تیرا حصہ نہیں اور تو گوشہ تنہائی میں بیٹھا یہ خیال کیا کرتا تھا کہ جن پر میر ا حق تھا وہ دنیا میں نہیں رہے۔مگر اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تجھے پتہ بھی ہے کہ تیری پیدائش سے بھی پہلے جب کہ ابھی کائناتِ عالم وجود میں نہیں آئی تھی۔ہم نے اسے پیدا ہی تیری خاطر کیا تھا اور ہم نے اسی وقت سے یہ فیصلہ کیا ہواتھا کہ یہ تمام زمین و آسمان میںتیری خاطر بنائوں گا۔اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔گویہ حدیث صوفیاء کی احادیث میں سے ہے ان احادیث میں سے نہیںجن کو محدثین صحیح قرار دیتے ہیں مگر حضرت مسیح موعو دعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے الہام نے ثابت کردیا ہےکہ یہ سچی حدیث ہے۔کیونکہ آپؑ کا بھی الہام ہے کہ لَوْ لَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ (تذکرہ صفحہ ۵۲۵و۴؍ مئی ۱۹۰۶ ء حقیقہ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۲)اب مقابلہ کرو اس کیفیت کا اس یتیم کا جو گوشہ تنہائی میں بیٹھا ہوا اپنے آپ کو کامل لاوارث سمجھتا تھا۔جو مکہ کے ایک چھوٹے سے غریب گھر میں پیدا ہو ا۔جوروٹی کے ایک ٹکڑے اور گوشت کی ایک بوٹی پر بھی اپنا حق نہیں سمجھتا تھا۔وہی ایک دن مکہ میں داخل ہوتا ہے اور مکہ کے تمام بڑے بڑے سردارمجرموں کی طرح اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور وہ پوچھتا ہے۔بتائو اب تم سے کیا سلوک کیا جائے۔گویا وہ جن کے گھر کی ایک دھجی پر بھی وہ اپنا تصرف نہیں سمجھتا تھا ان کے جسم کا تسمہ تسمہ اس کے قبضہ میں تھا اور وہ تمام سردار گردن ڈالے ہوئے اس کے سامنے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے آپ ہم سے وہی سلوک کریں جو یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا۔چنانچہ وہ یتیم جس سے دنیا نے حسنِ سلوک نہیں کیا تھا جسے دنیا نے غیر حقدار اورلاوارث قراردیا تھا۔جب خدا نے اس کو طاقت دی تو اُس نے اُن سے یہ سلوک کیا کہ کہا لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ جائو تم پر کوئی گرفت نہیں۔غرض یہ وہ شخص تھا جو اپنی وفات سے ستاون اٹھاون سال پہلے اپنے گھر کے صحن میں اس لئے خاموش کھڑا رہتا اور گھر کی مالکہ سے دوسرے بچوں کی طرح نہ چمٹتا کہ وہ سمجھتا تھا کہ میرا اس گھر میں کوئی حق نہیں۔مگر پھر اس حالت