تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 554
میں اتنا عظیم الشان تغیر آگیا کہ یا تو آپ ؐایک یتیم اور بے کس تھے اور یا پھر تمام دنیا کا سہار ا آپؐ ہی بن گئے اور تمام دنیا کی ماں آپؐ ہی بن گئے۔وہی یتیم بچہ جو کسی وقت بے باپ اور بے ماں کے تھا۔ایک وقت اس پر آیا جب وہ ساری دنیا کا باپ اور ساری دنیا کی ماں بن گیا۔بلکہ وہی باپ نہیں بنا اس کی بیویاں بھی مومنوں کی مائیں بن گئیں۔گویا ابوت صرف آپؐ تک محدود نہ رہی بلکہ آپؐ سے تعلق رکھنے والوں کی عظمت بھی آپؐ ہی کے ذریعہ قائم ہوئی۔غرض اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ میں اللہ تعالیٰ نے ان عظیم الشان احسانات کا ذکر فرمایا ہے جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرمائے اور بتایا ہے کہ جس خدا نے تجھے اتنی عظیم الشان ترقی بخشی وہ اب بھی تجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا بلکہ تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔اور تجھے ساری دنیا پر غلبہ اور فتح عطا کرےگا۔اور یہ غلبہ صرف ایک زمانہ تک محدود نہیں ہوگا۔بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ بارباررحم کرنے والا ہے اسی طرح وہ بار بار تجھے غالب کرے گا۔گویا ہر تاریکی کا دور جب بھی دور ہوگا دنیا دیکھے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آفتاب حقانیت اپنی پوری شان کے ساتھ چمک رہا ہے۔وَ اِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۹۳نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ اور یقیناً یہ (قرآن) ربّ العالمین خدا کی طرف سے اتارا گیا ہے۔اس کو لے کر ایک امانت دار کلام بردار فرشتہ الْاَمِيْنُۙ۰۰۱۹۴عَلٰى قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۰۰۱۹۵ (جبریل ؑ)تیرے دل پر اترا ہے۔تاکہ تو ہوشیا ر کرنے والی جماعت میں شمار ہوجائے۔(اس کو جبریل ؑ نے بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍؕ۰۰۱۹۶وَ اِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۱۹۷ خد اکے حکم سے ) کھول کر بیان کرنے والی عربی زبان میں اتار اہے۔اور یقیناً اس کا ذکر پہلی کتابوں میں بھی اَوَ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً اَنْ يَّعْلَمَهٗ عُلَمٰٓؤُا موجو د تھا۔کیا ان کے لئے یہ نشان کم ہے کہ اس (قرآن ) کو علمائے بنی اسرائیل بھی پہنچانتے ہیں (یعنی سمجھتے ہیں کہ