تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 552

ہیں اور لڑ جھگڑ کر چیزیں لے رہے ہیں مثلاً مٹھائی تقسیم ہورہی ہے تو ایک کہتا ہے میں مٹھائی کی ایک ڈلی نہیں دو ڈلیاں لوں گا۔دوسرا کہتا ہے۔اماں مجھے تو تُو نے کچھ بھی نہیں دیا۔اسی طرح ہر بچہ اپنا اپنا حق جتا کر چیز کا مطالبہ کر رہا ہے اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کونہ میں خاموش بیٹھے ہوئے ہیں تو ابوطالب ان کو بازوسے پکڑ لیتے اورکہتے میرے بچے تو یہاں کیوں خاموش بیٹھا ہے پھر وہ آپؐ کولا کر اپنی بیوی کے پاس کھڑا کردیتے اور کہتے تو بھی اپنی چچی سے چمٹ جا اور اس سے مانگ۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ چمٹتے اور نہ کچھ مانگتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت دراصل انہی جذبات کا نتیجہ تھی کہ آپؐ سمجھتے تھے۔میرااس گھر پر کوئی حق نہیں۔اور جو کچھ مجھے ملتا ہے بطور احسان ملتا ہے۔مجھ پر یہ نکتہ اس وقت کھلا جب میری بیوی سارہ بیگم فوت ہوئیں اس وقت اخبار میں جومیں نےمضمون شائع کرایا تھا اس میں بھی اس واقعہ کا ذکر کردیا تھا۔سارہ بیگم کی بچی کی جوتی ایک دفعہ پھٹ گئی۔جس گھر میں مَیں نے اسے رکھا تھا انہوں نے نوکر کوکہا کہ بازار سے جا کر اس بچی کے لئے بوٹ لے آئو۔چا ر پانچ سال اس کی عمرتھی وہ بوٹ لایا میں اس وقت صحن میں ایک طرف کھڑا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس نے بوٹو ں کے جوڑے اپنی گودی میں لے لئے اور خوشی سے کودی اور کہا۔آہا میرے بوٹ آگئے۔میرے بوٹ آگئے۔مگر پھر میں نے دیکھا کہ یکدم اس کا چہرہ متغیر ہوگیا۔اس نے زمین پر بوٹ رکھ دیئے اور حیران ہو کر کھڑی ہوگئی۔اور بے اختیار اس کی زبان سے نکلا۔ہائے اللہ ! اب میں یہ بوٹ دکھائوں کسے۔تب میرے لئے یہ امر حل ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علیحدہ بیٹھنا بھی اس قسم کا تھا یہ بچی ۲۹ ؁ء میں پیدا ہوئی تھی اور ۳۳ ؁ء کا یہ واقعہ ہے ایک چار سال کے بچے کے منہ سے یہ فقرہ مجھے عجیب قسم کا معلوم ہوا کہ حیران ہوکر اس نے بوٹ زمین پر رکھ دیئے اور کہا۔ہائے اللہ !اب میں بوٹ دکھائوں کسے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو علیحدہ بیٹھنا تھا۔وہ بھی اسی رنگ کا تھا۔اب یہ جذبات خواہ کتنے ہی بے چین کرنے والے ہوں اگر کوئی شخص اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کردیتا ہے تو پھر یہی غم کے جذبات جو دراصل کمزوری کے جذبات ہیں اسے کہیں کا کہیں پہنچادیتے ہیں۔چنانچہ ایک طرف اس بچے کو دیکھو جو صحن کے ایک گوشہ میں بیٹھا ہوا ہے سارے بچے اس کے پاس سے کودتے ہوئے گزرجاتے ہیں اور اپنی والدہ کے پاس پہنچ کر کوئی اس کے کندھے پر چڑھ جاتا ہے کوئی اس کے دامن سے لپٹ جاتاہے۔کوئی کہتا ہے اماں! میں فلاں چیز ایک نہیں دو لوں گا۔کوئی کہتا فلاں کو کیوں زیادہ دیا میں بھی اتنا ہی لوں گا۔غرض کوئی کچھ کہہ رہا ہے اور کوئی کچھ۔مگر وہ ایک گوشہ میں خاموش بیٹھا ہے سارے کا خیال اس کے دل میں نہیں آتا۔اس کے دل میں آدھے کا خیال بھی نہیں آتا۔اس کے دل میں چوتھے حصےکا خیال بھی نہیں آتا۔اس کے دل میں یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ بیسویں حصہ