تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 546

کوئی اور ایسا ہی بڑا حاکم اگر کسی شخص کے ساتھ وعدہ کرے تو وہ شخص اپنے دل میں بڑا خوش ہوتا ہے اور سمجھتاہے کہ یہ لوگ وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے حالانکہ یہ لوگ پیشتر اس کے کہ اپنے وعدہ کا ایفاء کریں مربھی سکتے ہیںاور یہ بھی امکان ہوتا ہے کہ وہ کہہ دیں کہ اب ہم اس وعدہ کو پورا نہیں کرسکتے۔یاممکن ہے کہ وہ وعدہ کرتے وقت تو بااختیار ہوں لیکن وعدے کے ایفاء کے وقت ان سے تمام اختیارات چھِن چکے ہوں۔یا کسی اور محکمہ میں تبدیل ہوگئے ہوں۔مگر وہ خدا جو ازلی ابدی ہے وہ نہ بدلتاہے اور نہ مرتاہے اورنہ ہی اس پر کوئی ایسا وقت آسکتا ہے کہ اس سے اختیارات چھِن جائیں اس لئے ہمیں ایسے شخص سے ہزاروں گُنے زیادہ پُر امید ہونا چاہیے۔اور ہمیں اس با ت میں ذرا بھی شک نہیں لانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کا ایفاء کرے گا۔جب خدا تعالیٰ نے خودہمیں یہ دعا سکھائی ہے تو اس کے اندریہ وعدہ موجود ہے کہ وہ تنزل جو قوموں پر ان کے عروج کے بعد آتا ہے مسلمانوں کے اس دعا مانگنے کی وجہ سے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔اور ان کے عروج کے زمانہ کو لمبا کردیا جائے گا۔حضرت خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ تھے۔جو وَلَا الضَّآلِّیْنَ کی مدّ اور شدّ سے ایک عجیب استدلال کیا کرتے تھے۔وہ بزرگ کہتے تھے کہ وَلَا الضَّآلِّیْنَمیں جو شدّکے بعد مدّ آئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوںکا زمانہ بہت لمبا ہوگا (حقائق الفرقان تفسیر سورہ فاتحہ آیت ۷) مگر اس سے بھی بڑا نکتہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں یہ موجود ہے کہ اگرا للہ تعالیٰ نے اس دعا کو پورا ہی نہیں کرنا تھا تو اس دعا پر زور ہی کیوں دیا تھا۔اللہ تعالیٰ کا اس دعا کو ہم سے باربار منگوانا بتاتا ہے کہ وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کا گروہ نہ آنا تھا تو یہ دعا مسلمانوں کوسکھائی ہی کیوں گئی تھی۔اسی طرح میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بچانا نہ تھا تو غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ والی دعا کیوں سکھائی۔جیسے اللہ تعالیٰ نے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ والی دعا سکھا کر بتا دیا کہ وہ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ کا ایک گروہ پیدا کرنا چاہتاہے اسی طرح غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ والی دعا سکھا کر اس نے بتادیا ہے کہ اگر مسلمان اس پر عامل رہے تو ان کو مغضوب اور ضالین میں شامل ہونے سے بھی بچایا جائے گا اگر ضآلین کی مدّ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عیسائیوںکو عروج کالمبا زمانہ نصیب ہوگا تو غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ سے بدرجہ اتم یہ استنباط ہوتاہے کہ مسلمانوں کو عیسائیوں سے بھی لمبا زمانہ دیا جائے گا اور ضآلین بننےسے بھی بچایا جائے گا۔حدیثوں سے بیشک یہ معلوم ہوتاہے کہ قیامت کے قریب دنیا میں اشرا ر ہی رہ جائیں گے (بخاری کتاب الفتن باب ظھور الفتن) مگر قرب قیامت کی تعیین کوئی شخص نہیں کرسکتا۔او رخدا تعالیٰ ہی بہترجانتاہے کہ وہ کب آئے گی۔کیونکہ قرآن کریم میں ایک ایک دن کو ایک ہزار اور پچاس ہزار سال کا بتایا گیاہے۔اس طرح اگر دنیا کی عمر سات ہزار سال شمار کی جائے اور