تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 545

کررہاہے۔اور جب کچھ اورفاصلہ طے کرتا ہے تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہیں رہتی کہ وہی چھوٹی سی نالی جو چشمے میں سے دھیمے دھیمے پھوٹ رہی تھی اور جس پر سے چھلانگ لگا کر اس پار ہوجانا ذرا بھی مشکل نہ تھا وہ یہاں پہنچ کر ایک بہت بڑ ااور عظیم الشان دریا بن گیا ہے۔دریائے جہلم جو پنجاب میں پہنچ کر ایک بہت بڑے دریا کی شکل اختیار کر لیتا ہے اپنے دہانہ پر اتنا تنگ ہے کہ چند فٹ سے زیادہ نہیں۔اس جگہ کھڑے ہوکر کوئی شخص یہ باور نہیں کرسکتا کہ یہ چشمے میں سے بہنے والا چھوٹا سا نالہ پنجاب کی لاکھوںایکڑ زمین کو سیراب کرےگا اور لوگ میلوں میل کشتیوں میں بیٹھ کر اپنی مسافتوںکو طے کریں گے۔اسی طرح سورئہ فاتحہ کی شروع ہونے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے چشمہ میں سے نکلتے ہوئے نالہ کی لیکن آخر پر پہنچ کر اس کی مثال ایک بہت بڑے دریا کی سی ہوجاتی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ میں جس مضمون کو چشمے سے نکلتے ہوئے ایک چھوٹے سے نالے کی طرح بیان کیا گیا ہے۔اُسے غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ تک پہنچ کر ایک عظیم الشان دریا کی طرح واضح کردیا گیا ہے۔کوئی شخص اگر روحانی نابینا ہوتو الگ بات ہے ورنہ ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ترقی اور تنزل کی تمام منزلیں اس چھوٹی سی سورۃ کے اندر واضح طورپر بیان کی گئی ہیں۔اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ میں تو ترقی کا مضمون بیان ہوا ہے کہ اے اللہ ہمیں وہ راستہ دکھاجس پر چلنے والے انعام حاصل کرسکتے ہیں۔اور ہمیں ان قوموں میںشامل فرما جن قوموں نے ترقی کی تھی۔مگر آگے چل کر غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ میں بتادیا کہ ہر وہ قوم جس نے ترقی کی وہ آخر کار گر پڑی مگر یہ دعا سکھا کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں تنزل اور پستی سے بچنے کاایک گُر بھی بتا دیا ہے۔مستقبل کے متعلق تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے اور کیا ہوگا۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ دعا سکھا کر اس امر کی طرف ہماری راہنمائی فرمائی گئی ہے کہ اگر مسلمان توجہ سمجھ اور عقل کو کام میںلائیں تو وہ تنزل سے بچ سکتے ہیں۔پچھلے دورمیں تو مسلمان اس کی طرف سے توجہ ہٹا لینے کی وجہ سے نہ بچ سکے۔لیکن اسلام کے لئے ایک نشأۃ ثانیہ کی بھی خبر دی گئی تھی۔اور وہ زمانہ مسیح موعودؑ کی بعثت سے شروع ہونا تھا۔پس یہ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ کی دعا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھائی ہے مسلمان قوم اس پر عمل کرکے دوسری تمام اقوام سے لمبی عمر پاسکتی ہے۔اور ضلالت سے بچ سکتی ہے۔یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو دعا اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو سکھاتاہے اس پر اگر عمل کیا جائے تو وہ ہرگز ضائع نہیں جاتی کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعدہ مضمر ہوتا ہے کہ اگر تم مجھ سے مانگو گے تومیں تمہیں دے دوںگا۔اور یہ خدا تعالیٰ کی شان سے بالکل بعید ہے کہ وہ خود اپنے بندوں کو ایک دعاسکھائے اور جب بندے اس دعا پر عمل کریں تو وہ انہیں نہ دے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ایک بہت بڑی چیز ہے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض انسانوں کے وعدے بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔کوئی بادشاہ کوئی ڈپٹی کمشنر کوئی گورنر یا