تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 547

ایک دن ایک ہزار سال کا شمار کیا جائے تو دنیا کی عمر ستر لاکھ سال بنتی ہے۔اور اگر ایک دن پچاس ہزار سال کا شمار کیا جائے تو یہ عمر ۳۵کروڑ سال بنتی ہے۔اور خدا کے دن تو اس سے بڑے ہوسکتے ہیںاس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ دنیا کی عمر کتنی ہے۔ہم یہ تو مان لیتے ہیں کہ یہ آخری زمانہ ہے مگر اس کی حد بندی کس طرح کی جائے اس کا علم تو صر ف خدا تعالیٰ کو ہی ہے لوگوں کی بحثیں محض فلسفیانہ ہیں۔اور فلسفیانہ بحثیں ہمیشہ عبث اور لاحاصل ہوتی ہیں۔درحقیقت یہ سب باتیں جو آخری زمانہ کے متعلق بیان ہوئی ہیں استعارات سے پُر ہیں جن کی تفصیلا ت ہمیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دینی چا ہئیں۔حقیقت یہ ہے کہ سورئہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ تم قومی لحاظ سے خواہ کتنی بھی ترقی کرجائو تمہیں ہمیشہ یہ امر مدّ نظر رکھنا چاہیے کہ اگر تمہارا قدم ذرا بھی پھسلا تویا تو تم مغضوب علیہم میں شامل ہوجائو گے اور یاپھر ضآلین میں تمہارا شمار ہوجائے گا۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے دامن کو مضبوطی سے پکڑے رکھو گے اور ہمیشہ اس سے دعائیں کرتے رہو گے کہ وہ تمہارا قدم صراط مستقیم پر قائم رکھے تو اس کا فضل تمہارے شامل حال ہوگا اور وہ تمہیں تنزل اور انحطاط کا شکار ہونے سے محفوظ رکھے گا۔حضرت شعیب علیہ السلام نے اسی نکتہ کی طرف اپنی قوم کو توجہ دلائی اور فرمایا کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم سے پہلے بھی کئی قومیں گزری ہیں جنہیں اپنے اپنے زمانہ میں بڑی بڑی طاقت حاصل تھی مگر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو وہ تباہ و برباد کر دی گئیں۔پھر تم کیوں اپنی چند روزہ زندگی میں تقوی اللہ سے کام نہیںلیتے اور مادّی لذات کے حصول کےلئے ناجائز ذرائع اور تدابیر اختیا ر کرتے ہو۔قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ۠ۙ۰۰۱۸۶وَ مَاۤ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ (اس پراس کی قوم نے )کہا۔تُو تو ایسا (شخص) ہے جسے غذادی جاتی ہے۔اور تُو صرف مِّثْلُنَا وَ اِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَۚ۰۰۱۸۷فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا ہماری طرح کا ایک انسان ہے اور ہم یقیناً تجھے کاذب سمجھتے ہیں۔پس اگر تو سچا ہے تو ہم پر کوئی بادل کا ٹکڑ ا گرا۔كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَؕ۰۰۱۸۸قَالَ (اس پر شعیبؑ نے )کہا۔میرا ربّ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔(مگر اس کے سمجھانے کے