تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 528 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 528

شہادت سے ظاہر ہے کہ مدینؔ کے پاس جو خلیج عقبہ کے سر پر واقع تھا ایک بڑا جنگل تھا جس میں قدِ آدم درخت تھے۔اور پیلو اور جنگلی بیر قدآدم ہی ہوتے ہیں۔وہاں جنگلی اونٹ رہتے تھے یہ بھی پیلو اور بیر کے درختوں کی موجودگی کا ثبوت ہے کیونکہ اونٹ اسی قسم کے درختوں پر گزارہ کرتے ہیں۔مویشیوں اور بھیڑوں کے گلّوں کا ذکر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ مدینؔ کی قوم اسی جنگل میں اپنے جانور چرایا کرتی تھی۔یہ قوم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدینؔ کی اولاد تھی جو ان کی بیوی قتورہؔ کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے (پیدائش باب ۲۵آیت ۱تا ۴)اور انہی کے نام پر مدین ؔ کہلائے اور پھر اسی نام پرانہوں نے ایک شہر بھی بسایا۔قرآن کریم نے مدین قوم اور مدین ؔ شہر دونوں کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ قوم کے معنوں میں تو فرماتا ہے وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (ہود:۸۵)یعنی مدین قوم کی طرف ہم نے انہی کے بھائی شعیبؑ کو مبعوث کیا۔اور شہر کے معنوں میں سورئہ توبہ میں ذکر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَالْمُوْتَفِکٰتِ(التوبۃ :۷۰) یعنی کیا ان کو مدین شہر کے رہنے والوں اور ان بستیوں کی تباہی کی خبر نہیں پہنچی جو عذاب سے اُلٹا دی گئی تھی یعنی قوم لوط ؑ کی بستیاں۔حضرت شعیب ؑ نے بھی اس قوم سے یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔میں تمہاری طرف خدا تعالیٰ کے ایک رسول کی حیثیت سے آیا ہوں اور اپنے کام کے بدلہ میں تم سے کچھ مانگتا نہیں میر ا بدلہ ربّ العالمین خدا مجھے دے گا۔اس آیت میں اور پہلی کئی آیتوں میں گزرچکا ہے کہ جب ہر پہلے رسول نےکہا کہ میری اطاعت کرو توساتھ ہی اس نے یہ بھی کہا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔جس سے الٰہی حکومت اور دنیوی حکومت میں فرق معلوم ہوتا ہے۔لوگ اطاعت کرو ا کے اجر لیا کرتے ہیں مگر ان آیات میں یہ مذکور ہے کہ میری اطاعت کرو۔میں اس اطاعت کی وجہ سے تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔پس معلوم ہوا کہ آسمان کی طرف سے جس اطاعت کا حکم آتا ہے وہ جبری اطاعت نہیں ہوتی بلکہ اطاعت کروانے والا درحقیقت بندوں کا خادم ہوتا ہے مگر چونکہ خادم ہمیشہ اجرت لیا کرتے ہیں اس لئے ہر رسول کے منہ سے یہ کہلوایا گیا کہ میرے اطاعت ایسے رنگ میں ہوگی کہ میں تمہاری خدمت تو کروں گا لیکن تم سے کوئی اجر نہیں لوںگا۔گو بظاہر توتم میرے مطیع نظرآئو گے لیکن حقیقتاً میں تمہارا خادم ہوںگا۔گو تمہاری اطاعت بھی نرالی ہوگی اور میری خدمت بھی نرالی ہوگی۔تم بظاہر اطاعت کرتے ہوئے مجھ سے خدمت کروا ئو گے۔اورمیں انتہادرجہ کی خدمت کرتے ہوئے بھی تم سے کوئی اجرت نہیں لوں گا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی بلند مقام عطا فرمایا۔اور اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا قُلْ لَّاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّ