تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 527
فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوْنِۚ۰۰۱۸۰وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ١ۚ پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔اورمیں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؕ۰۰۱۸۱ میرا بدلہ صرف رب العالمین (خدا) کے ذمہ ہے۔تفسیر۔قومِ لوط ؑ کے ذکر کے بعد اب اللہ تعالی ٰ اصحاب الائیکہ کا ذکر فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ اصحاب الایکہ نے بھی رسولوں کا انکار کیا تھا۔اَیکہ کے معنے ایسے درخت کے ہوتے ہیں جس کی ٹہنیاں بہت پھیلی ہوئی ہوں یا اس جنگل کے ہوتے ہیں جس میں کثر ت سے بیریاں اور پیلو کے درخت اُگے ہوئے ہوں۔اور اَیْکٌ اس کی جمع ہے۔اسی طرح عربی زبان کا ایک یہ بھی محاورہ ہے کہ فُلَانٌ فَرْعٌ مِنْ اَیْکَۃِ الْمَجْدِ کہ فلاں شخص اَیْکَۃُ الْمَجد کی ایک شاخ ہے۔یعنی اَیْکٌ اعلیٰ خاندان کے لوگوں کو بھی کہتے ہیں(اقرب)۔پس اصحاب الایکہ کے ایک معنے یہ بھی ہوسکتے ہیںکہ اس میں کسی ایسے علاقہ کا ذکر ہے جس جگہ کے لوگ اپنے آپ کو بڑ اخاندانی سمجھتے تھے اور چونکہ اگلی آیت یعنی اِذْ قَالَ لَھُمْ شُعَیْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ میں حضرت شعیبؑ کا ذکر ہے اور حضرت شعیبؑ مدین کے رہنے والے تھے جو عربوں کا ایک شہر ہے اور عرب اپنے آپ کو عبرانیوں سے زیادہ اچھی نسل کا سمجھتے تھے۔اس لئے اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ شعیبؑ کی قوم نے جو اپنے آپ کوبڑے خاندان میں سے سمجھتی تھی اپنے رسولوں کا انکارکیا۔اسی طرح اس کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ شعیبؑ کی قوم نے جو ایک گھنے جنگل کی مالک تھی اپنے رسولوں کا انکار کیا۔دوسری جگہ قرآن کریم نے حضرت شعیبؑ کومدینؔکا رسول قراردیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَاِلیٰ مَدْیَنَ اَخَاھُمْ شُعَیْبًا (ھود :۸۵)ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیبؑ کو رسول بناکر بھیجا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینؔ کے باشندے ہی اصحاب الایکہ کہلاتے تھے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعہ میں مدینؔ کے پاس کوئی ایسا جنگل تھا جس میں بیری اور پیلو کے درخت بکثر ت پائے جاتے ہوں۔سواس بارہ میں ایک یونانی جغرافیہ نویس کے حوالہ سے مسٹربرینؔ نے اپنی کتاب ’’گولڈمائنز آف مدین‘‘ میں لکھا ہے کہ خلیج عقبہ کے پیچھے نباتات اور اشجار کے سوا کچھ نہیں ہوتا جو انسانی قدوقامت کے برابرا ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے ہرنوں کے گلّے۔جنگلی اونٹ اور بارہ سنگھے وہاں کثرت سے رہتے ہیں اسی طرح مویشی اور بھیڑوں کے گلّے بھی (ارض القرآن جلد دوم صفحہ ۲۳،۲۴ ) اس تاریخی