تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 529

الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى( الشوریٰ :۲۴)یعنی اے محمدؐ رسول اللہ ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے اس محبت اور پیار کے جو اپنے قریب ترین رشتہ داروں سے کی جاتی ہے۔مسلمانوں میں سے بعض لوگ غلطی سے اس آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ تم پر جومیرے احسانات ہیں ا ن کے بدلہ میں مَیں ذاتی طورپر تم سے کسی چیز کا خواہش مند نہیں ہاں میں تم سے صرف اتنی خواہش کرتاہوں کہ میرے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرنا(قرطبی)۔مگر یہ معنے درست نہیں۔کیونکہ اس صور ت میں آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ میں تم سے کوئی اوراجر نہیں مانگتا ہاںیہ اجرضرور مانگتا ہوں کہ میرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا حالانکہ قرآن کریم کی دوسری آیا ت میں وضاحتًا کہاگیا ہے کہ میں تم سے کوئی ایسا اجر نہیںمانگتا جس کا دنیا کیساتھ کوئی تعلق ہو۔صرف یہ چاہتاہوں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لائو۔بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تو اللہ تعالیٰ سورئہ سباع ۶/۱۲میں یہاں تک فرماتا ہے کہ قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ (السبا:۴۸)۔یعنی اگر تمہارے خیال میں مَیں نے کوئی اجر تم سے مانگا ہے تووہ ہرگز نہ دینا اسے اپنے ہی گھر رکھو۔اور ظاہر ہے کہ یہ کہنا کہ مجھ پر ایمان لائوا ورمیرے احکام کی اطاعت کرو یہ کوئی ایسی بات نہیںجس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ذاتی فائدہ ہو۔ایمان اور اطاعت تو بہرحا ل لوگوں کے اپنے فائدہ کی چیز ہے۔پس اس جگہ جو اجر کا لفظ آیا ہے اور جس کے طلب کرنے کی نفی کی گئی ہے اس سے مراد ایسا ہی اجر ہوسکتا ہے جس کا جسمانی طورپر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یا آپ کے خاندان کو فائدہ پہنچ سکتا ہو۔اورجہاں تک ایسے اجرکا تعلق ہے جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی طور پر فائدہ پہنچ سکتا۔اس کی نفی دوسری آیت میں جو اسی مفہوم میں آئی ہے موجو د ہے۔پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ بغیر کسی استثنیٰ کے کہہ دیا ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور ساتھ ہی دوسرے انبیاء نے بھی یہی کہا ہے کہ ہم کوئی اجر نہیں مانگتے تو اب اس آیت میں اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰىکے کوئی ایسے معنے کئے جائیں۔جن کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے تعلق ہو تو یہ اوّل تو دوسری آیت کےخلاف ہوگا۔دوسرے اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انبیاء سابقین پر فضیلت ثابت ہونے کی بجائے نقص ثابت ہوگا۔کیونکہ یہی آیت اللہ تعالیٰ پہلے انبیاء کے مونہہ سے بھی نکلواتا ہے۔مگر وہاں یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے بغیر کسی اجر کی امید کے خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بنی نوع انسان کی خدمت کی۔ان سے کسی معاوضہ کا تقاضا نہیں کیا۔نہ اپنے لئے۔نہ اپنے رشتہ داروں کے لئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ ؐ نے نعوذ باللہ گو یہ تو کہا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا مگر پہلے انبیاء کے طریق کے خلاف اتنا ضرور کہا