تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 526

سچی بات وہی ہے جو قرآن کریم نےبیان کی کہ حضرت لوط ؑکی بیوی آپ کے مخالف گروہ سے تعلق رکھتی تھی اسی لئے جب عذاب آیا تو وہ بھی اس کی لپیٹ میں آگئی۔چنانچہ فرماتا ہے ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی (پتھروں کا ذکر سورئہ حجر ع ۵میں کیا گیا ہے)یعنی ایک سخت زلزلہ آیا جس سے ان کی زمین جو پتھریلی تھی پہلے نیچے سے اٹھ کر اوپر آئی اور پھر اوپر سے نیچے گری۔اور بجائے پانی کے اوپر سے پتھر برسے جس سے وہ تباہ ہوگئے۔شدید زلزلوں میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ ان سے زمین کے ٹکڑے اڑ کر پھروہیں آکر گرنے لگتے ہیں۔فرماتا ہے۔یہ بھی ایک نشان تھا مگر بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے۔وہ قوم تو پھر بھی ایمان نہ لاسکی۔بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوطؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی حارانؔ کے بیٹے تھے اور اُور سے جو عراق کا ایک قصبہ تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے فلسطین کی طر ف چلے آئے تھے۔اورپھر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے الگ ہو کر سدومؔ نامی ایک بستی میں رہنے لگے تھے۔(پیدائش باب ۱۱ آیت ۲۷ و باب ۱۳ آیت ۱۲) اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کا ذکر کرکے مکہ والوں کو توجہ دلائی کہ اگر تم بھی اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو لوط ؑ کے دشمنوں جیسا سلوک تم سے بھی کیا جائے گا۔چنانچہ جس طرح لوطؑ کی قوم پر پتھر برسے اسی طرح بدرؔ کی جنگ میں ان پر پتھر پڑے یعنی ایک نشان کے طور آندھی چلی جس کے نتیجہ میں کنکر اُڑاُڑ کر کفار کی آنکھوں میں گھس گئے اور وہ مقابلہ کی طاقت کھو بیٹھے۔جس کے نتیجہ میں ان کے بڑے بڑے صنادید بدرؔ کے میدان میں ہی ہلاک ہوگئے۔(تاریخ الخمیس غزوۃ بدر الکبریٰ)اور قریش کی عظمت اور ان کے دبدبہ کا خاتمہ ہوگیا پھر معنوی طور پر بھی ان سے یہی سلوک ہوا۔چنانچہ جس طرح سدوم کی بستی کے اوپر کے حصہ کو نیچے کردیا۔اسی طرح کفارِ مکہ کی عزتیں خاک میں مل گئیں۔ان کے بڑے بڑے خاندان تباہ ہوگئے اور وہی بچے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں پناہ گزیں ہوئے۔كَذَّبَ اَصْحٰبُ لْـَٔيْكَةِ الْمُرْسَلِيْنَۚۖ۰۰۱۷۷اِذْ قَالَ لَهُمْ بَن کے رہنے والوں نے بھی رسولوںکا انکار کیا تھا۔جب کہ ان سے شعیبؑ نے کہا شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَۚ۰۰۱۷۸اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌۙ۰۰۱۷۹ کہ کیا تم تقویٰ نہیں کرتے۔میں تمہاری طرف ایک امانت دار پیغامبر کی حیثیت سے آیا ہوں۔