تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 476

پھر فرماتے ہیں وَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ اے خدا ! تو میرے باپ کو بھی معاف کردے کیونکہ وہ ہدایت اور راستی کے طریق سے منحرف ہوجانے والے لوگوں میں سے تھا۔اس جگہ اب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر اس سے مراد ان کا چچا ہے جو بت پرست تھا کیونکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے اور انہیں ان کے چچا نے پالا تھا (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ ABRAHAM)جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش بھی آپ ؐکے والدین کی وفات کی وجہ سے آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے کی تھی جو بت پرست تھے۔اوراب کے لفظ کا چچا کے معنوں میں استعمال قرآنی محاورہ سے ثابت ہوتا ہے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت جب اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ بتاؤ تم میرے مرنے کے بعد کس کی عبادت کروگے تو انہوں نے جواب دیا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا (البقرۃ:۱۳۴) ہم اسی خدائے واحد کی پرستش کریں گے جس کی آپ بھی عبادت کرتے رہے ہیں اور آپ کے آباء حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیل ؑاوراسحٰق ؑبھی عبادت کرتے رہے ہیں اس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جو حضرت یعقوبؑ کےدادا تھے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بھی جو آپ کے چچا تھے اب قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح اس آیت میں گو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ وَاغْفِرْلِاَبِیْ مگر مراد ان کا چچا ہی ہے جو بت پرستی پر قائم رہا تھا۔یہ دعا جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس لئے کی تھی کہ جب ان کے چچا نے انہیں دھمکی دی کہ لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِيْ مَلِيًّا (مریم:۴۷) اے ابراہیم اگر تو بتوں کی مذمت سے باز نہیں آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔اگر تو اپنی جان بچانا چاہتا ہے تو کچھ دیر کے لئے میری نظروں سے اوجھل ہو جا تاکہ میں غصہ میں کچھ کر نہ بیٹھوں۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایاکہ سَلٰمٌ عَلَيْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا (مریم:۴۸)اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے گو آپ اتنی سختی سے کام لے رہے ہیں لیکن پھر بھی میں آپ کے لئے اپنے رب سے مغفرت کی دعا کروں گا کیونکہ وہ مجھ پر بہت ہی مہربان ہے پس چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں گے اس لئے انہوں نے اپنے وعدہ کے مطابق اللہ تعا لیٰ سے دعا کی کہ وَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ اے میرے خدا! میرے چچا کے گناہ کو معاف فرما دیں۔وہ یقیناً گنہگاروں میں سے تھا مگر قرآن کریم بتاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر یہ حقیقت کھل گئی کہ ان کا چچا توحید کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے اپنی برأت کا اظہار کردیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےمَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا۠ لِلْمُشْرِكِيْنَ۠ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ۔وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ(التوبۃ:۱۱۳،۱۱۴)یعنی نبی اور اس پر ایمان لانے والوں کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ مشرکوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مغفرت طلب کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہوں جبکہ یہ امر ان پر ظاہر ہو جائے کہ وہ توحید کا انکار کرنے کی وجہ سے دوزخی بن چکے ہیں (یعنی یا تو اللہ تعالیٰ ان کا دوزخی ہونا ان پر ظاہر کر دے یا وہ شرک کی حالت میں ہی مر جائیں اور اس طرح ان کی مشرکانہ موت سب کو نظر آجائے)۔ہاں ابراہیم ؑ کا اپنے چچا کے لئے استغفار صرف اس وجہ سے تھا کہ اس نے اپنے چچا سے ایک وعدہ کیا تھا مگر جب اس پر یہ امر کھل گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہ اس سے کلی طور پر بیزار ہو گیا۔ابراہیم یقیناً بڑا ہی درد مند دل رکھنے والا اور بردبار انسان تھا۔اس جگہ اب سے چچا اس لئے بھی مراد لیا جاتا ہے کہ قرآن کریم ایک طرف تویہ بتاتا ہے کہ جب ان پر اپنے اب کے متعلق یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن تھا یعنی شرک کی حالت میں ہی اس کا انتقال ہو گیا تو وہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کرنے سے پوری طرح دست بردار ہو گئے۔مگر دوسری طرف قرآن کریم بتاتا ہے کہ بیت اللہ کی تعمیر کے وقت انہوں نے یہ دعا کی کہ رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابُ (ابراہیم:۴۲) یعنی اے ہمارے رب تو مجھے بھی اور میرے والدین کو بھی اور تمام مومنوں کو بھی قیامت کے دن اپنی مغفرت کے