تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 475
کرے۔ابراہیمی طریق تو یہی ہے کہ جو ملک غیر آباد ہیں ان میں اپنے مبلغ بھیجو۔اور جو ملک غیر آباد ہیں وہاں اپنی نسلیں بسا دو۔یہ ایسا جذبہ ہے کہ اس کے ماتحت جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے گا اور تمہارے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو اس نےحضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے کیا ہم دن رات کہتے ہیں اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَہم اسی لئے کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں یہ جذبہ تھا کہ اس کا ایک حصہ آبادیوں میں تبلیغ کرنے لگ گیا اور دوسرا حصہ ویرانوں میں جا بسا۔اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد بھی تبھی ان برکات کی وارث ہو سکتی ہے جب اس کاایک حصہ آبادیوں میں تبلیغ کرے اور سیدھی راہ سے برگشتہ لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف لائے اور دوسرا حصہ غیر آباد علاقوں میں جاکر رہائش اختیار کرے تاکہ جب وہ علاقے آباد ہوں تو کلمہ پڑھنے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگ وہاں موجود ہوں اور دنیا کی تمام آبادیاں اور ویرانے سب اللہ اکبر کی آوازوں سے گونج رہے ہوں۔پھر فرماتے ہیں وَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ اے خدا ! تو میرے باپ کو بھی معاف کردے کیونکہ وہ ہدایت اور راستی کے طریق سے منحرف ہوجانے والے لوگوں میں سے تھا۔اس جگہ اب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے مگر اس سے مراد ان کا چچا ہے جو بت پرست تھا کیونکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے اور انہیں ان کے چچا نے پالا تھا (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ ABRAHAM)جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش بھی آپ ؐکے والدین کی وفات کی وجہ سے آپ کے چچا حضرت ابو طالب نے کی تھی جو بت پرست تھے۔اوراب کے لفظ کا چچا کے معنوں میں استعمال قرآنی محاورہ سے ثابت ہوتا ہے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی وفات کے وقت جب اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ بتاؤ تم میرے مرنے کے بعد کس کی عبادت کروگے تو انہوں نے جواب دیا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآىِٕكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا (البقرۃ:۱۳۴) ہم اسی خدائے واحد کی پرستش کریں گے جس کی آپ بھی عبادت کرتے رہے ہیں اور آپ کے آباء حضرت ابراہیمؑ اور اسمعیل ؑاوراسحٰق ؑبھی عبادت کرتے رہے ہیں اس جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جو حضرت یعقوبؑ کےدادا تھے اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو بھی جو آپ کے چچا تھے اب قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح اس آیت میں گو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ وَاغْفِرْلِاَبِیْ مگر مراد ان کا چچا ہی ہے جو بت پرستی پر قائم رہا تھا۔یہ دعا جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس لئے کی تھی کہ