تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 477

دامن میں چھپا لیجیؤ۔اور ہمارے گناہوں کو بخش دیجیئو۔یہ ظاہر ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر انہوں نے اس وقت کی ہے جبکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام جوان ہو چکے تھے اور چونکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمعیلؑ اور حضرت اسحاق ؑ دونوں کی پیدائش آپ کے بڑھاپے کے زمانہ میں ہوئی ہے اس لئے رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ والی دعا آپ کی عمر کے آخری حصہ سے تعلق رکھتی ہے اوروَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَ والی دعا جو انہیں ترک کرنی پڑی اس سے پہلے کی ہے۔اگر اب سے مراد ان کے باپ ہی ہوتے تو اس یقینی علم کے بعد کے وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن تھا بڑھاپے میں وہ اپنے والدین کی مغفرت کے لئے کیوں دعا کرتے۔پس ان کا آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت اپنے والدین کی مغفرت کے لئے دعا مانگنا بتاتا ہے کہ چونکہ ان کے والدین کا زمانہ فترت میں انتقال ہو چکا تھا اس لئے انہوں نے ان کی مغفرت کے لئے دعا کر دی۔لیکن ان کے چچا نے چونکہ زمانہء نبوت پایا اور اسے توحید کی تبلیغ بھی کی گئی لیکن پھر بھی وہ اپنےشرک پر مصر رہا اور اسی حالت میں اس کا انتقال ہو گیا اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے وعدہ سے دست بردار ہو گئے۔اور یہ امر خود قرآن کریم سے ثابت ہے کہ انبیاء کی بعثت سے پہلے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں بوجہ اس کے کہ ان پر حجت تمام نہیں ہوتی ان کا معاملہ ان لوگوں سے بالکل مختلف ہو تا ہے جن پر نبی کے زمانہ میںحجت تمام ہو چکی ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہےيٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّ لَا نَذِيْرٍ١ٞ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّ نَذِيْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (المائدۃ:۲۰)یعنی اے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے جو سلسلہء رسالت کے ایک لمبے انقطاع کے بعد تمہیں ہمارے احکام خوب کھول کھول کر سنا رہا ہے تاکہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اورہمیں چو کس اور ہوشیار کرنے والا کوئی نہیں آیا۔اب دیکھ لو کہ تمہارے پاس ہمارا بشیر اور نذیر آچکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر اس امر پر جس کا وہ ارادہ کر ے پوری طرح قادر ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم نے عدم آگاہی کو ایک معقول عذر قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ چونکہ ایسا عذر لوگوں کے حق بجانب ہونے کی علامت ہو سکتی تھی اس لئے ہم نے ان کے عذر کو توڑ دیا۔اور ان کی طرف اپنے انبیاء بھیج دئیے تاکہ وہ دنیا میں ہماری تعلیم پھیلائیں لوگوں پر حجت تمام کریں اور ان کو کسی قسم کے عذر کا موقع نہ ملے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ خود یہ بات بھی تشریح طلب ہے کیونکہ اگر اس کے یہ معنے کئے جائیں کہ جب نبی آتا ہے صرف اسی وقت لوگوں پر حجت ہوتی ہے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ جس جس زمانہ میں نبی آئے ہیں اسی زمانہ کے لوگوں پر حجت تمام ہوئی ہے باقی لوگوں پر حجت تمام نہیں ہوئی۔اگر یہ معنے تسلیم کر لیے جائیں تو اس طرح دنیا کا اکثر حصہ اتمام حجت کے دائرہ سے