تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 474
لئے اسی سال تک رسی بٹ بٹ کر اس میں ڈالتا رہا۔لیکن باوجود اسّی سال تک رسی بٹنے کے وہ رسی پانی کی تہہ رتک نہ پہنچی آخر اس سادھو نے ’’توہی پرمیشور ہے ‘‘کہہ کر تالاب میں چھلانگ لگا دی اور ڈوب گیا۔ایک دفعہ ہم کھجیار گئے تو میں نے اپنےساتھیوں سے کہا کہ اس جزیرہ پر چڑھنا چاہیے چنانچہ میں نے ایک دوست سے کہا کہ ہمت کرو اور یہ جو تختے اور گیلیاں اردگرد پڑی ہیں اٹھا لاؤ تاکہ ان کے ذریعہ ہم جزیرہ کے زیادہ قریب ہو جائیں۔اس وقت کوئی ہندو یا سرکاری افسر وہاں نہیں تھا جو ہمیں جزیرہ پر چڑھنے سے روکتا۔ایک گیلی ہم نے تالاب میں ڈالی اور اس سے کہا کہ تم اس کے ساتھ چمٹ جاؤ ہم گیلی کو دھکا دیں گے اور تم جزیرے تک پہنچ جاؤگے اورساتھ چپو بھی دے دیا کہ اگر ضرورت ہو تو اس سے کام لے لینا۔چنانچہ ہم نے گیلی کو دھکا دیا اور وہ دوست جزیرے تک پہنچ گئے اور اس کو آہستہ آہستہ ہمارے پاس لے آئے جب جزیرہ ہمارے پاس آگیا تو میں نے کہا یہ موقعہ ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرو۔اس سے پہلے کسی نے اس پر اللہ کا نام بلند نہیں کیا چنانچہ ہم اس جزیرہ پر چڑھ گئے اور خوب اذانیں دیں۔اس بات کا علم ہو نے کے بعد گورنمنٹ نے یہ قانون بنا دیا کہ کسی شخص کو اس جزیرہ کو کھینچنے یا اس پر چڑھنے کی اجازت نہیں۔اب بے شک یہ قانون بن جائے لیکن ہم نے تو اس پر اذانیں دے دیں اور اللہ تعالیٰ کا نا م اس پر بلند کر دیا۔جب ہم اذانیں دے رہے تھے تو مندر کا ایک پجاری آگیا چونکہ ہمیں روکنے کی اس میں جرأت نہ تھی اس لئے وہ ہمیں ڈرانے کے لئے کہنے لگا کہ اس جزیرہ پر ایک بہت بڑا سانپ رہتا ہے خطرہ ہےکہ آپ میں سے کسی کو کاٹ نہ کھائے۔میں نے کہا سانپ کاٹتا ہے تو کاٹنے دو۔مگر ہم اس پر اذانیں ضرور دیں گے کیونکہ مومن کے دل میں یہ تڑپ ہوتی ہے کہ میں وہاں اللہ کا نام بلند کروں جہاں کسی نے بھی نہیں کیا پس اپنے اندر ابراہیمی جذبہ پیدا کرو۔اور جو ملک آباد ہیں ان میں تبلیغ کے لئے نکل جاؤ اور جو ملک غیر آباد میں وہاں اپنے بچوں کو بسا دو جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد عرب میں بسا دی تاکہ جب بھی عرب آباد ہو تو ان کی اولاد ان میں اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرنے والی ہو۔یہ گوبی ڈیزرٹ یا دوسرے غیر آباد علاقے جو آج بیابان اور ویران نظر آتے ہیں تم ایسے علاقوں کو آباد کرو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بجلی سے چلنے والی مشین یا کلیں ایسی نکال دے جن کے ذریعہ یہ علاقے بھی آباد ہو جائیں اور یہ کوئی بعید از قیاس بات نہیں کیونکہ باقی غیر آباد علاقے بھی تو پہلے اسی طرح ویران تھے پس جہاں امریکہ افریقہ انگلستان جرمن اٹلی اور دوسرے آباد ممالک میں ہمارے مبلغ جائیں وہاں ساتھ ہی ہمیں یہ بھی مدنظررکھنا چاہیے کہ گوبی جیسے ریگستانوں اور ہندوستان کے ریتلے علاقوں یا عرب کے غیر آباد علاقوں میں بھی ہم احمدیوں کو بسا دیں تاکہ جب بھی وہ علاقے آباد ہوں وہاں احمدیوں کی نسل موجود ہو جو ان میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کا نا م بلند