تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 470

اگر ہم کہیں کہ جس طرح اس جمعدار نے پندرہ آدمیوں پر کنٹرول کر رکھا ہے ویسے ہی یہ کمانڈربھی کنٹرول رکھتا ہے تو اس ’’ویسے‘‘ کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہ پندرہ آدمیوں پر کنٹرول رکھنے والا دو تین لاکھ پر کنٹرول کر سکتا ہے۔بہر حال کوئی عقلمند اس فقرہ کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں لے گا کہ جس طرح اس جمعدار نے اپنی جنس میں کمال پیدا کیا ہے اسی طرح کمانڈر اپنی جنس میں کمال پیدا کرے ویسے تو پندرہ آدمیوں پر کمان کرنے والے اور دو لاکھ آدمیوں پر کمان کرنے والے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔پندرہ آدمیوں پر کنٹرول کرنے والے کو اگرسو آدمی بھی دے دیئے جائیں تو وہ فیل ہو جائے گا لیکن تین لاکھ آدمیوں پر کنٹرول کرنے والا ایک وقت میں ہزار ہا جمعداروں پر کنٹرول کرلے گا۔توجب ہم یہ دعا کرتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جس طرح تو نے ابراہیم ؑ کو اپنی جنس میں کمال عطا فرمایا اسی طرح تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جنس میں کمال عطا فرما۔اور اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ہتک نہیں ہوئی۔بہر حال ابراہیم ؑکو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنس میں بڑا کمال بخشا۔اورایسا بخشا کہ اس جنس میں سے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتیں اپنی ملکی ترقی کے لئے دو قسم کی پالیسیاں اختیار کیا کرتی ہیں ایک پالیسی ’’شارٹ ٹرم پالیسی‘‘ کہلاتی ہے اور ایک’’ لانگ ٹرن پالیسی‘‘ کہلاتی ہے یعنی ایک تو اس ملک کی موجودہ مشکلات کو دور کرنے کے لئے عارضی انتظام ہوتا ہے اور ایک اس ملک کے لئے لمبا پروگرام ہوتا ہے جس کا مقصد اس ملک کی حالت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی گورنمنٹ اپنے ملک کو ایک دن میں اعلیٰ ترقی نہیں دے سکتی بلکہ اس کے لئے تیس پنتیس سال کی کوشش اور جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے لیکن تیس پنتیس سال کی کوشش کے یہ معنے نہیں کہ اگر کسی حصہ ملک میں قحط پڑجائے تو حکومت کہے کہ ہم نے پروگرام بنا یا ہوا ہے کہ تیس سال کے بعد ایسے حالات پیدا نہیں ہوں گے اب چونکہ ہم اس طرف لگے ہوئے ہیں اس لئے ہم قحط زدہ لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے۔اگر وہ مرتے ہیں تو مریں ایسے مواقع پر شارٹ ٹرن پالیسی کو اختیار کیا جا تاہے تا اچانک پیدا ہو نے والی باتیں اصل پروگرام میں مخل نہ ہوں۔’’لانگ ٹرم پالیسی‘‘ یعنی ایسی پالیسی جس سے آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے پچھلی تکالیف کا ازالہ کیا جائے اس کے لئے لوگ بڑی بڑی قربانیاں کرتے ہیں مگر ان میں سے کوئی قربانی بھی ابراہیم ؑکی قربانی سے بڑھ کر نہیں یعنی جو ’’لانگ ٹرم پالیسی‘‘ حضرت ابراہیم ؑنے اختیار کی کسی اور نے نہیں کی شارٹ ٹرن پالیسی یہ ہے کہ اگر کسی کو کوئی ایسا آدمی نظر آئے جو بھوک سے مر رہا ہو اور وہ اس کے سامنے روٹی رکھ دے اور کہے کہ کھالو تو ہم اسے اچھا اور نیک آدمی کہیں گے اسی طرح اگر کوئی پیاسا ہو اور کوئی اس کے سامنے خالی پانی ہی نہیں بلکہ شربت رکھے اور کہے کہ پی لو تو ہم اسے اچھا اور نیک آدمی کہیں گے اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ہم اسے