تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 469
ساری دنیا میں کمال دکھائیںتو اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ کے معنے ہم یہ کریں گے کہ اے خدا جس طرح تو نے ابراہیم ؑ کو بنی اسرائیل کے لئے برکت دی جو دنیا کا ہزارواں حصہ ہے اسی طرح تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جو ساری دنیا کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور جو بنی اسرائیل سے ایک ہزار گنا بڑی ہے ابراہیم ؑ سے ہزار گنا زیادہ برکت دے۔کَمَا کا لفظ بعض اوقات نسبتی معنوں میں بھی بول لیا جاتا ہے جیسے میں نے مثال دی ہے اگر کسی شخص کے پاس بکری ہو جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہو تو جب کوئی زمیندار گائے خریدے گا تو وہ کہے گا اے خدا جس طرح تونے فلاں کی بکری میں برکت دی تھی اسی طرح تو میری گائے میں بھی برکت دے۔اب اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ گائے چھ ماہ میں دو بچے دے یا ڈیڑھ سیر دودھ دے گائے اگر اچھی ہو گی تو سات آٹھ سیر دودھ دے گی۔اور اگر بھینس لےگا اور وہ دعا کرے گا کہ جس طرح فلاں بکری میں برکت ڈالی تھی اسی طرح اس میں بھی برکت ڈال تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے ایسی بھینس دے جو چودہ پندرہ سیر دودھ دینے والی ہو۔غرض الفاظ تو ویسے ہی بولے جائیں گے لیکن چونکہ جنس علیحدہ علیحدہ ہوگی اس لئے معنے بھی الگ الگ ہو جائیں گے حضرت ابراہیم ؑ کی جنس الگ تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی الگ۔آپ کی قوم دو چار لاکھ تھی دنیا میں یہودی اس وقت ڈیڑھ دو کروڑ کی تعداد میں ہیں لیکن ساری دنیا کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے۔گویایہودی دنیا کی آباد ی کا سوواں حصہ ہے اس لحاظ سے اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ کے معنے یہ ہوں گے کہ اے اللہ ! جس طرح تو نے ابراہیم ؑکو یہودی قوم کے لئے برکت دی اسی طرح تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابراہیم ؑسے سو گنا زیادہ برکت دے۔اگر دس ارب روپیہ یہود کو دیا تو اسی نسبت سے امت محمدیہ کو سو گنا زیادہ مال دے۔پس یہاں کَمَاکے معنے زیادتی کے ہیں برابری کے نہیں کیونکہ جنس الگ ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف عرب کے لئے مبعوث ہوتے تو پھر ویسے ہی معنے لئے جاتے کیونکہ بکری کی بکری سے نسبت ہوتی ہے اور گائے کی گائے سے نسبت ہوتی ہے۔غرض کَمَا کا مفہوم برابری کا نہیں بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح ابراہیم ؑاپنی جنس میں کامل وجود بنا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جنس میں کامل وجود بنیں۔آخر ساری دنیا کی طرف آنے والے نبی کو جو درجہ ملنا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام تو وہاں پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔جس طرح ایک جمعدار اگر اپنے ماتحتوں پر جو کہ پندرہ بیس ہوتے ہیں اچھی طرح کنٹرول رکھتا ہے اور ایک کمانڈر دو تین لاکھ فوج کی کمان کرتا ہے تو وہ دونوں برابرنہیں ہو سکتے۔