تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 471
ظالم کہتے ایسے کاموں کو ہم شارٹ ٹرن پالیسی کہتے ہیں اور اس قسم کی نیکیاںعام طور پر پائی جاتی ہیں مگر ایک نیکی وہ ہوتی ہے جو سارے لوگوں کے لئے ہوتی ہے اور جس سے ساری دنیا فائدہ اٹھاتی ہے۔جیسے مشہور ہے کہ ایک بادشاہ کہیں سے گذر رہا تھا کہ اس نے ایک بوڑھے کو ایک درخت لگاتے دیکھا جو اسی نوے سال کے بعد پھل لاتا تھا اور بہت آہستہ آہستہ اس کی ترقی ہوتی تھی۔یہ حالت دیکھ کر وہ کسان کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا تیری عقل ماری ہوئی ہے کہ تو ایسا درخت لگا رہا ہے جو اسّی سال کے بعد تجھے کوئی فائدہ پہنچائے گا کیا تو سمجھتا ہے کہ تو اسّی سال تک زندہ رہ سکے گا تیری توموت قریب ہے اگر تو زیادہ سے زیادہ بھی زندہ رہا تو آٹھ دس سال تک زندہ رہ سکے گا۔پھر جب تجھے اس چیز سے کوئی فائدہ نہیں تو تو اسے کیوں لگا رہا ہے۔کسان نے کہا آپ تو بادشاہ ہیں اور اس مرتبہ کے لحاظ سے آپ کو بڑا تجربہ کار ہونا چاہیے تھا آپ کو معلوم ہے کہ آدمی اٹھارہ بیس سال کا ہو کر کھیتی باڑی کا کام اچھی طرح سنبھال سکتا ہے اگر وہ اس وقت اس درخت کولگائے اور اسّی سال تک یعنی جب اس کی عمر سو سال کی ہو جائے انتظار کرتا رہے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس وقت تک وہ زندہ رہے گا۔ان میں سے تو اکثر اس پھل کے آنے سے پہلے ہی مر چکے ہوں گے اور بہت ہی کم تعداد ایسی ہوگی جو اس سے فائدہ اٹھا سکے گی اگر ہمارے باپ دادا بھی اسی خیال سے درخت نہ لگاتے تو پھر یہ درخت دنیا میں ہوتا ہی نہ۔ہر شخص کہتا کہ میں کیوں اس درخت کو لگاؤں جبکہ میں نے اس کا پھل کھانا ہی نہیں لیکن یہ جاننے کے باوجود کہ انہوںنے پھل نہیں کھانا انہوں نے درخت لگائے اور ہم نے ان کا پھل کھایا۔اب ہم لگائیں گے تو ہماری اولادیں کھائیں گی۔بادشاہ کو یہ بات بہت پسند آئی اور اس نے کہا ’’زہ‘‘۔زہ کے معنے ہیں واہ واہ۔بادشاہ نے اپنے وزیر کو جو سفر میں ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا تھا ہدایت کی ہوئی تھی کہ جب میںکسی سے خوش ہو کر’’ زہ‘‘ کہا کروں تو تم اس شخص کو تین ہزار درہم یعنی ساڑھے سات سو روپیہ انعام دے دیا کرو۔جس وقت بادشاہ نے کہا’’ زہ‘‘ تو وزیر نے اسی وقت تین ہزار درہم کی تھیلی کسان کو پکڑا دی۔جب کسان کو تھیلی ملی تو اس نے پوچھا کہ یہ تھیلی مجھے کس لئے دی گئی ہے وزیر نے کہا کہ جب بادشاہ کسی بات پر خوش ہوکر ’’زہ‘‘ کہتا ہے تو اس وقت یہ تین ہزار درہم کی تھیلی اس شخص کو دے دی جاتی ہے۔جس کی بات پر بادشاہ سلامت خوش ہو کر زہ کہتے ہیں۔کسان نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا بادشاہ سلامت آپ فرما رہے تھے کہ تم ایسا درخت لگا رہے ہو جس کاپھل تم نے نہیں کھانا۔بادشاہ سلامت لوگ یہ درخت لگاتے ہیں تو اسّی سال کے بعد اس کا پھل کھاتے ہیں گندم بوتے ہیں تو چھ ماہ بعد کاٹتے ہیںلیکن میں نے تو اپنا پھل دم نقد وصول کر لیا ہے اس پر بادشاہ نے پھر کہا’’ زہ‘‘۔یعنی اس نے کیا ہی اچھی بات کہی ہے۔وزیر نے جھٹ تین ہزار درہم کی دوسری تھیلی کسان کو دے دی۔کسان دونوں تھیلیوں کو ہاتھ میں