تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 465
بِالصّٰلِحِیْنَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تمہیں ہر وقت یہ دعا مانگنی چاہیے کہ تمہیں سارے صالحین کی مصاحبت حاصل ہو۔پہلے ایک صالح کی مصاحبت حاصل ہو تو تمہارے دل میں دوسرے صالح سے ملنے کی خواہش پیدا ہو جائے دوسرے صالح سے ملو تو تیسرے صالح کے مقام تک پہنچنے کی خواہش پیدا ہو جائے۔تیسرے صالح کے مقام تک پہنچو تو چوتھے صالح کے مقام تک پہنچنے کی خواہش پیدا ہو جائے اور یہ خواہش اسی طرح بڑھتی چلی جائے یہاں تک کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں تک پہنچ جاؤ۔جو تمام صالحین میں سے سب سے بلند اور سب سے بالا اور سب سے ارفع مقام پر فائز ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کو ہم دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کے اندر بھی یہی رنگ پایا جاتا تھا اور آپؐ بھی خدا تعالیٰ کے قرب کے غیر متناہی مراتب کے حصول کے لئے ہمیشہ اپنے قدم کو تیز رکھتے تھے آج کل بعض نادان ایسے ہیں کہ دوچار دن کی نمازوں کے بعد ہی یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ انہوں نے قرب کے انتہائی مقامات کو طے کر لیا ہے۔وہ خدا کو ایک چھوٹی سی چیز سمجھ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی ہستی ایسی عظیم الشان ہے کہ بڑے سے بڑے انبیاء بھی اس کے قرب میں جس قدر بڑھ جائیں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انہوں نے قرب کے سب مقامات کو طے کر لیا ہے۔بلکہ وہ جتنا زیادہ اس کے قرب میں بڑھتے ہیں اتنا ہی وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں اور اس کی طاقتوں میں اور اس کی قدرتوں میںوسعت پاتے ہیں اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے قرب کا ابھی ایک غیر متناہی میدان پڑا ہے جس کو انہوں نے طے کر نا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپؐ بڑھاپےکی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس قدر گریہ و زاری کرتے اس قدر گڑگڑاتے اور اس قدر تضرع اور عاجزی سے دعائیں کرتے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت میں کھڑے کھڑے آپ ؐکے پاؤں سوج جاتے۔یہ دیکھ کر آپؐ کی بیویوں کے دلوں میں رحم پیدا ہوتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مشقت کیوں برداشت کرتے ہیں۔آخر ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ ہی دی کہ یا رسول اللہ !جب آپؐ کے اگلے پچھلے سب گناہ اللہ تعالیٰ معاف کر چکا ہے تو آپ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں اور کیوں اتنی مشقت برداشت کر تے ہیں ؟آپ نے فرمایا اَفَلَا اَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا(تفسیر در منثور زیر آیت انا فتحنا لک فتحا مبینا و بخاری کتاب التہجد باب قیام النبی حتی ترم قدماہ)تم کہتی ہو کہ خدا نے مجھ پر یہ فضل کیا کہ میرے اگلے پچھلے سب گناہوں کو معاف کر دیا اور جب حالت یہ ہے تو کیا میرا فرض نہیں کہ میں خدا تعالیٰ کے اس فضل کا شکریہ ادا کروں۔اور اس وجہ سے کہ اس نے