تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 466

مجھ پر یہ انعام کیا ہے میں اس کی دوسروں سے بھی زیادہ عبادت بجا لاؤں۔جب اس نے مجھ پر اتنے بڑے فضل کئے ہیں تو مجھے دوسروں سے زیادہ شکریہ بھی تو ادا کرنا چاہیے پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کے لئے ہمیشہ زیادہ سے زیادہ جدوجہد کرتے رہے۔اور یہی سبق ہے جو دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے۔اگر لوگ اس سبق کو یاد رکھیں تو ان کی روحانیت کبھی مردہ نہ ہو اور شیطان ان پر کبھی تسلط اور غلبہ نہ پائے۔پھر فرماتے ہیںوَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ اے خدا ! بعد میں آنے والے لوگوں میں تو مجھے ایک قائم رہنے والی اور ظاہر و باطن طور پر اچھی تعریف مجھے بخش۔عربی زبان میں جب صدق کی طرف کوئی لفظ مضاف ہو تو اس کے مفہوم میں دوام اور ظاہر و باطن کی خوبی کے معنے پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ مفردات امام راغبؒ میں لکھا ہے۔اَلصِّدْقُ یُعَبَّرُ عَنْ کُلِّ فِعْلٍ فَاضِلٍ ظَاھِرًا وَ بَاطِنًا بِالصِّدْقِ فَیُضَافُ اِلَیْہِ ذَلِکَ الْفِعْلُ الَّذِیْ یُوْصَفُ بِہٖ یعنی صدق سے مراد ہر وہ فعل ہوتا ہے جو ظاہر و باطن میں خوبی رکھتا ہو اور جس فعل کی صدق کو صفت بنانا ہو اس کو صدق کی طرف مضاف کردیتے ہیں۔پس اس دعا کے معنےیہ ہیں کہ اے میرے خدا !تو آخری زمانہ کے لوگوں کے دلوں میںمیرے لئے دعا کی تحریک پیدا کر دے لیکن وہ دعا عارضی نہ ہو۔بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہو اور پھر وہ تعریف صرف لوگوں کی زبانوں پر ہی نہ ہو بلکہ واقعہ میں میرے نیک کام دنیا میں قائم رہیں اور اس طرح مجھے ظاہری اور باطنی طور پر اچھی تعریف حاصل ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کو دنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف مسلمانوں نے پورا کیا ہے۔ممکن ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے بیٹے اور پوتے آپ کے لئے دعا کرتے ہوں لیکن بہت سی نسلیں گزر جانے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روحانی اور جسمانی اولاد ان کو بھول گئی لیکن مسلمان ہیں جو تیرہ سو سال سے برابر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے دعا کرتے چلے آرہے ہیں اور قیامت تک دعا کرتے چلے جائیں گے چنانچہ ہر نمازی ہر تشہد کے آخر میں یہ کہتا ہے کہ اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ اَللَّھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ محُمَدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ یعنی اے اللہ ! تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسی طرح فضل نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضل نازل فرمایا گویا ہم خدا تعالیٰ کی اس محبت پر انتہاء درجہ کا اعتماد رکھتے ہیں جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کی اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے انتہاء درجہ کا پیار کیا تھا۔لیکن بعض لوگ جو حقائق سے نا آشنا ہوتے ہیں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابراہیم علیہ السلام