تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 464

ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمیں نماز روزہ کی ضرورت نہیں۔میں ایک دفعہ جمعہ کی نماز پڑھا کر فارغ ہوا تو ایک صوفی منش آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا میں ایک سوال کر نا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے؟کہنے لگا۔اگر کوئی شخص دریا میں سفر کر تے کرتے کنارہ پر پہنچ جائے تو اس کے بعد وہ کشتی میں ہی بیٹھا رہے یا نیچے اتر جائے۔جب اس نے یہ سوال کیا معاً اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے سوال کا مقصد سمجھا دیا۔دراصل یہ صوفیا ء کا ایک دھوکہ ہے جس میں وہ عام طور پر مبتلا پائے جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی حیثیت سواریوں کی سی ہے۔یہ سواریاں ہمیں اپنے محبوب کے دروازہ تک پہنچانے کے لئے ہیں۔اگر کوئی شخص اپنے محبوب کے دروازہ تک پہنچ کر سواریوں پر بیٹھا رہے اور نیچے نہ اترے تو وہ اول درجہ کا گستاخ سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لے تو اسے نماز روزہ کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ وہ خدا کے دروازہ تک پہنچ گیا۔غرض جب اس نے یہ سوال کیا معاً اللہ تعالیٰ نے یہ تمام بات مجھ پر کھول دی اور میں نے اسے کہا اگر تو وہ دریا ایسا ہے جو کنارے والا ہے تو بے شک جب کنارہ آئے وہ کشتی سے اتر جائے لیکن اگر وہ دریا غیر محدود ہے اور اس کا کوئی کنارہ ہی نہیں تو وہ یاد رکھے کہ جس جگہ وہ نیچے اترے گا۔اسی جگہ وہ ڈوب جائے گا۔اب آپ بتائیں کہ جس دریا کا آپ نے ذکر کیا ہے وہ محدود ہے یا غیر محدود۔کہنے لگا ہے تو غیر محدود میں نے کہا تو پھر غیر محدود دریا میں انسان جس جگہ بھی نیچے اتر ے گا اسی جگہ ڈوب جائے گا۔اس کی سلامتی اسی میں ہے کہ وہ کشتی پر سوار رہے۔غرض ہم اس خدا کی طرف جا رہے ہیں جو غیر محدود ہے۔یہ دنیا تو چند سالوں کی ہے مگر ہمیں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ اس دنیا کے بعد پھر ایک زندگی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی اور اسی وجہ سے ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جنتیوں کو وہ نعمتیں ملیں گی جو غیر منقطع ہوں گی۔پس جبکہ ہم ایک غیر محدود دریا کے شناور ہیں اور ہمارا مقصد اس خدا کے قرب میں بڑھنا ہے جو ازلی ابدی ہے تو ا س کے بعد ہمارا کسی حالت پر مطمئن ہو کر کھڑا ہوجانا کس طرح درست ہو سکتا ہے اگر ہم کھڑے ہو جائیں تو یقیناً تباہ ہو جائیں۔مگر بجائے اس کے کہ لوگ اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے قرب الٰہی کی منازل کے حصول کے لئے اپنے قدموں کو تیز تر کردیں اور اپنی قربانیوں اور ایثا راور خدمت خلق اور اعلیٰ اخلاق اور نیک نمونہ اور غرباء پروری اور خدمت قرآن اور اشاعت اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں وہ اس قسم کی سطحی بحثوں میں پڑ جاتے ہیں کہ ایک نبی نے یہ کیوں دعا کی کہ الٰہی مجھے صالحین میں شامل کر۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ سارے صلحاء آخر ایک جگہ پر تو نہیں ہیں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پہنچے وہاں حضرت ابوہریرہؓ نہیں پہنچے۔اور جہاں ابو ہریرہ ؓپہنچے وہاں آج کل کے مسلمان نہیں پہنچے۔پس اَلْحِقْنِیْ