تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 456

جَنَّةِ النَّعِيْمِۙ۰۰۸۶وَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَۙ۰۰۸۷ اور میرے باپ کو معاف کردے وہ بھٹک جانے والوں میںسے تھا۔اورجس دن لوگ زندہ وَ لَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَۙ۰۰۸۸يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا کرکے اٹھائے جائیں مجھے اس دن رسو انہ کیجیئو۔جس دن کہ نہ مال نفع دے گا نہ بیٹے (نفع دیں گے )۔ہاں بَنُوْنَۙ۰۰۸۹اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍؕ۰۰۹۰ (وہی نفع پائے گا ) جواللہ (تعالیٰ) کے پاس ایک تندرست دل لے کرآئے گا۔حلّ لُغَات۔اَلْحُکْمُ: اَلْحُکْمُ بِالشَّیْءِ کے معنے ہیں اَنْ تَقْضِیَ بِاَنَّہٗ کَذَا اَوْلَیْسَ بِکَذَا سَوَاءً اَلْزَمْتَ ذٰلِکَ غَیْرَکَ اَوْلَمْ تُلْزِمْہُ یعنی کسی امر کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ اس کی صحیح صور ت کیا ہے۔خواہ وہ بات دوسروں پر واجب کی جائے یا نہ کی جائے۔وَالْحُکْمُ اَعَمُّ مِنَ الْحِکْمَۃِ فَکُلُّ حِکْمَۃٍ حُکْمٌ۔یعنی عربی زبان میں دو لفظ استعمال ہوتے ہیںایک حُکْم ہے اور دوسرا اَلْحِکْمَۃُ ہے اور حُکْمُ کالفظ عام ہے اس لئے اس کے ماتحت حکمت کے سارے معنے آجاتے ہیں (مفردات) اَلْحِکْمَۃُکے معنے ہیں اِصَابَۃُ الْحَقِّ بِالْعِلْمِ وَ الْعَقْلِ یعنی درست بات کوعلم اور عقل سے معلوم کرلینااو ر پالینا (مفردات) اقرب الموارد میںہے۔اَلْحِکْمَۃُ۔اَلْعَدْلُ وَ الْعِلْمُ وَالْحِلْمُ وَالنُّبُوَّۃُ۔یعنی حکمت کے معنے انصاف۔علم۔بردباری اور نبوت کے ہیں۔اسی طرح اس کے معنے ہیں مَایَمْنَعُ مِنَ الْجَھْلِ ہر وہ بات جوجہالت سے روکے۔وَقِیْلَ کُلُّ کَلاَمٍ مُوَافِقِ الْحَقِّ ہر وہ بات جو حق کے مطابق ہو اس کوبھی حکمت کہتے ہیں۔وَقِیْلَ وَضْعُ الشَّیءِ فِیْ مَوْضِعِہِ وَصَوَابُ الْاَمَرِوَسِدَادُہُ۔اوربعض ماہرین لغت کہتے ہیںکہ کسی چیزکابرمحل استعمال حکمت کہلاتا ہے۔(اقرب) لِسَانَ صِدْقٍ:لِسَانَ صِدْقٍمفردات میں ہے کہ یُعَبَّرُعَنْ کُلِّ فعْلٍ فَاضِلٍ ظَاھِرًا وَبَاطِنًا بِالصِّدْقِ ہروہ امرجوظاہری اور باطنی لحاظ سے اعلیٰ درجہ کاہواس کے ساتھ صدق کالفظ استعمال کیا جاتا ہے۔اور یہ جو حضرت ابراہیم ؑ کی دعاآتی ہے کہ وَاجْعَلْ لِّی لِسَانَ صِدْقٍ اس سے یہ مراد ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ ایسابنائے کہ آنے