تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 457
والی نسلیں جوہمارا ذکرخیر کریں تو وہ درست ہو اور خلاف واقعہ نہ ہو (مفردات)اقرب الموارد میں ہے کہ لِسَانُ الصِّدْقِ اچھے ذکر کو کہتے ہیں۔سَلِیْمٌ۔سَلِیْمٌ السَّلَامَۃُ کے معنی ہیں اَلتَعَرِّیْ مِنَ الاٰفَاتِ الظَّاھِرَۃِ وَالْبَاطِنَۃِ۔ظاہری اور باطنی ہرقسم کی خرابیوں سے پاک ہونا(مفردات)پس قلب ٍسلیم کے معنے ہوںگے۔ایسا دل جو ہرقسم کی خرابیوں سے پاک ہو۔تفسیر۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چونکہ اللہ تعالیٰ پر ایک بہت بڑی امید کااظہار کیاتھا۔اس لئے آپ نے سمجھا کہ اب میرا فرض ہے کہ میں خود بھی اس کے آستانہ پر جھک جائوں اور اس سے دعا کروں کہ وہ میری اس خواہش کی تکمیل کے سامان پیدافرمائے اور مجھے ایسی توفیق بخشے کہ میں اس کے پیغام کو احسن طریق پر لوگوں کو پہنچاتا چلا جائوں۔چنانچہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعافرمائی کہ اے میرے رب !مجھے حکم عطافرمااور مجھے نیک اور پاک لوگوں میں شامل کردے۔حُکم کے اصل معنے جیسا کہ امام راغب ؒ نے اپنی مشہور کتاب مفردات میں لکھا ہے اصلاح کی خاطر کسی کام سے روکنے کے ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے جانور کی لگام کو حَکَمَةٌ کہتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعہ جانور کو روکا جاتا ہے۔اور اَلْحُکْمُ بِالشَّیْ ءِکے یہ معنے ہوتے ہیں کہ کسی امر کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ اسے کس طرح سر انجام دیا جائے خواہ وہ بات دوسروں پر واجب کی جائے یا نہ کی جائے۔لیکن اس کے ساتھ ہی حکم کا لفظ صرف کسی فیصلہ پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس بات پر بھی دلالت کیا کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی معقول وجہ کام کر رہی ہے۔چنانچہ اسی سے حکمت کا لفظ نکلا ہے جس کے معنے فلسفہ کے ہیں۔پس حکم کا لفظ صرف زور اور طاقت کے ساتھ کوئی بات منوانے کے لئے نہیں آتا بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اہم مقصد کام کر رہا ہے اور اس پر عمل کر نے میں خو د انسان کا اپنا فائدہ ہے بلا سوچے سمجھے محض اپنی حکومت جتانے کے لئے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت کا اہم مقصد خدا تعالیٰ کی وحید پھیلانا ہے۔اور اس مقصد کے حصول میں اسی صورت میں کامیابی ہو سکتی تھی۔جبکہ آپ کی ہر بات حکمت کے ساتھ تعلق رکھتی ہو اور وہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جانے والی ہو۔اس لئے آپ نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے الٰہی ! تو مجھے ایسی تعلیم عطا فرما جس کی کوئی بات حکمت کے خلاف نہ ہو تاکہ لوگ اس کو بشاشت قلب کے ساتھ قبول کریں اور اشاعت ہدایت کے راستے کھلتے چلے جائیں۔مفسرین میں سے بعض نے اس جگہ حکم سے نبوت اور رسالت مراد لی ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اس جگہ حکم سے علم و فہم مراد ہے بعض نے کہا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے احکام کی معرفت مراد ہے اور بعض نے کہا