تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 455
پھر جیساکہ اوپر بتایا جاچکا ہے دین کے ایک معنے غلبہ کے بھی ہوتے ہیں۔اس لحاظ سے وَ الَّذِيْۤ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْٓـَٔتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِکے یہ معنے ہوں گے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ روحانیہ کی ترقی کے زمانہ میں بھی جس کی ترویج میرے ہاتھ سے ہو رہی ہے میر ی بشری کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے سامان پیدا فرمائے گا کہ جن کے نتیجہ میںتبلیغ اور تربیت کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کے دین کی کشتی ہر قسم کے حوادث کے تھپیڑوں سے بچتی ہوئی ساحلِ مراد پر کامیابی سے پہنچ جائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کا غلبہ جہاں اپنے اندر بڑی بھاری بشارت رکھتاہے۔وہاں یہ غلبہ اپنے اندر ایک انذارکا پہلو بھی لئے ہوئے ہوتاہے کیونکہ اس وقت ہزاروں ہزار لوگ سلسلہ روحانیہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔اور چونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کےلئے کسی قسم کی تکلیف برداشت نہیں کی ہوتی اور پھر وہ مذہبی تعلیم سے بھی بہت حد تک ناواقف ہوتے ہیں اس لئے ان کے اندر کئی قسم کے بگاڑ پید اجاتے ہیں۔وہ منہ سے تو بے شک ہر قسم کے عقائد کا اظہار کرتے ہیں مگر ان کا عمل اپنے دعویٰ کے مطابق نہیں ہوتا اوروہ دین میں داخل ہوتے ہوئے بھی دین کی عائد کردہ پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔اور اس طرح قومی تنزل کا بیج پرورش پانے لگتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی معرفت کی آنکھ سے اس بیج کو دیکھا اور انہوں نے اس کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرنی شروع کردیں اورساتھ ہی اس امید کا بھی اظہار کیا کہ میرا رب میراساتھ دےگا۔اور وہ میر ی اس بشری کمزوری کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ کوئی ایک انسان ہزاروں لوگوں کی تربیت نہیں کرسکتا اپنے فضل سے خود ہی ایسے سامان پیدا فرمادے گا کہ جن کے نتیجہ میں آنے والوں کی تربیت ہوتی رہے اور وہ اخلاص اور فدائیت کی روح کےساتھ اس کے دین کے جھنڈے کو ہمیشہ بلند رکھیں۔رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَۙ۰۰۸۴وَ اجْعَلْ اے میرے رب! مجھے صحیح تعلیم عطا کر۔اور نیکوں میں شامل کر۔اور بعد میں آنے والے لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَۙ۰۰۸۵وَ اجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَةِ لوگوں میں ایک ہمیشہ قائم رہنے والی تعریف مجھے بخش۔اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔