تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 450

خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے خلاف ہو تو یہی بات بری بن جاتی ہے۔پس اسلام یہ سکھاتا ہےکہ اپنے کاموںکو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو۔اور اس بات سے عبرت حاصل کرو کہ دنیا میں لوگ محی ہوکر بھی ظالم ہوتے ہیں اور ممیت ہوکر بھی ظالم ہوتے ہیں۔کئی ایسے ہیں جو احیاء ؔ کے سامان کررہے ہیں مگر پھر بھی وہ ظالم ہیں اور کئی ایسے ہیں جو اماتت کے سامان کررہے ہیں مگر پھر بھی وہ ظالم ہیں۔لیکن مومن کی یہ حالت نہیں ہوتی وہ محی بنتا ہے تب بھی اس پر رحم کیاجاتا ہے اور ممیت بنتاہے تب بھی اس پررحم کیا جاتاہے۔وہ قتل کرتا ہے تب بھی اسے ثواب ملتاہے اور پیدائش کا موجب بنتا ہے تب بھی اسے ثواب حاصل ہوتاہے۔پس ایسے انسان بننے کی کوشش کرو تاکہ تم سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جس کے نتیجہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہ ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ایٹم بم کی ایجاد کی وجہ سے بڑی بڑی حکومتیںپریشان ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ اس کا کوئی توڑ پیدا ہو تاکہ دنیا اس کے تباہ کن نتائج سے محفوظ ہوسکے۔لیکن دوسری طرف اگر ہم غور کریں تو ہمیں نظرآتاہے کہ خدا تعالیٰ بھی ہمیشہ ایٹم بم گراتا رہتاہے او رہرسال دنیامیں پچاس ساٹھ لاکھ انسان مرجاتے ہیں۔بلکہ جب کبھی وبائیں پڑتی ہیں توا س سے بھی زیادہ انسان مرجاتے ہیں۔اورکروڑ ڈیڑھ کروڑ تک یہ تعداد جاپہنچتی ہے مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی دیکھتے ہیںکہ خدا تعالیٰ کے اس فعل سے دنیامیں کبھی گھبراہٹ پیدا نہیںہوئی۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جہاں اپنے ایٹم بم (یعنی طبعی موت)سے لاکھوں کروڑوں انسانوں کومارتاہے وہاں اتنی ہی تعداد کو پیدا بھی کردیتاہے۔اور اس کے پاس اگر مارنے کی طاقت ہے تو زندہ کرنے کی طاقت بھی موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ باوجو دلاکھوں اور کروڑوں انسانوں کے سالانہ مرنے کے لوگوں میںگھبراہٹ کے آثار پیدا نہیںہوتے۔وہ جانتے ہیںکہ ہمارا خدا مُحْیٖ بھی ہے اور ممیت بھی ہے۔وہ مارنابھی جانتاہے او ر پیدا کرنابھی جاتناہے۔مگر ا ب ایٹم بم یااسی قسم کی اور ایجادات کے ذریعہ موت ایسے لوگوں کے قبضہ میںآئی ہے جو صرف مارناہی جانتے ہیں جلانانہیں جانتے۔اسی لئے لوگ ایسی چیزوں سے گھبرا اٹھتے ہیں۔ورنہ دنیامیں لو گ یوں بھی تو مرتے رہتے ہیں لیکن کسی کو گھبراہٹ نہیںہوتی۔کسی عزیز رشتہ دار کے مرنے پر اس کے لواحقین دوچار روزتک رو دھوکرچپ ہوجاتے ہیں اور تھوڑا عرصہ ہی گذرتاہے کہ اسی گھر میں جہاں سے تھوڑا عرصہ پہلے ماتم اور چیخ و پکار کی آوازیں آتی تھیں ڈھول اور باجے بج رہے ہوتے ہیں او ر کسی خوشی کی تقریب کاانتظام ہورہاہوتاہے۔غرض عزیز سے عزیز وجود کے مرنے پربھی اس کے متعلقین میںجو گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے وہ عارضی ہوتی ہے جو تھوڑے دنوں تک بالکل مفقود ہوجاتی ہے۔مگر