تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 449
کرنے والے لوگ ہیں۔جو ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچاتے ہیں۔کہیں آگ لگ جائے تو بجھاتے ہیں۔اسی طرح اور کئی واقعات اور حادثات جو رونما ہوتے رہتے ہیںان میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔یہ لوگ خدا کی صفت محیؔ کے مورد ہوتے ہیں۔اوراس کا ایک نمونہ ہوتے ہیں۔لیکن کئی لوگ دنیا میں ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ تباہیاں اور بربادیاں اور ہلاکتیں لاتے رہیں۔کہیں ان کی وجہ سے قتل ہورہے ہوتے ہیں۔کہیں فساد ہورہے ہوتے ہیں۔کہیں غارت گری کے واقعات رونما ہورہے ہوتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کی صفت ممیت ؔ کو ظاہر کرنے والے ہوتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کی ہر صفت کی نقل کرنے والا انسان ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کا مقبول ہو۔خدا بیشک مُمِیْت ؔ ہے مگر یہ نہیںہوسکتا کہ ایک قاتل کسی کو بلاوجہ قتل کردے تووہ یہ کہے کہ میں نے چونکہ فلاں شخص کو قتل کرکے خدا تعالیٰ کی صفت ممیت ؔ کا اپنے آپ کو مظہر ثابت کیا ہے اس لئے میں بڑا مقرب ہوں۔اگر وہ ایسا کہے گا تو اس کا دعویٰ بالکل غلط ہوگا کیونکہ بندے کو جن حالات میں ممیت ؔ بننے کا حق حاصل ہے ان حالات میں اگر وہ ممیت ؔ بنتاہے تب تو وہ بے شک خدا تعالیٰ کا مقرب بن سکتا ہے۔لیکن اگر ان حالات میں ممیتؔ نہیں بنتا تووہ مقرب نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ولادت خدا تعالیٰ کی احیاء کی صفت ہے مگر ناجائز ولادت کا موجب خدا تعالیٰ کی صفتِ محیؔ سے نسبت دےکر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا مقرب نہیں کہہ سکتا۔صرف وہی شخص خدا تعالیٰ کی صفت محیؔ یا ممیت ؔ کو پوراکرنے والا قرار پاسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بتا ئے ہوئے قوانین کے ماتحت ان صفات کا مظہر بنتاہے۔اگر وہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے ماتحت محی بنتاہے تو بے شک وہ خدا تعالیٰ کا اس صفت میں مظہر بن سکتاہے۔اسی طرح اگر وہ خدا تعالیٰ کی صفت ممیت کا مظہر اس رنگ میں بنتاہے جو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق ہو۔تو خدا تعالیٰ کا مقرب ہوسکتا ہے ورنہ نہیں۔چنانچہ دیکھ لو جس وقت جہاد ہوتاہے۔دونوں فریق ایک ساکام کررہے ہوتے ہیں۔وہ بھی تلوار چلا رہا ہوتا ہے اور یہ بھی تلوار چلا رہا ہوتا ہے۔کافر مومن کومارتا ہے اور مومن کافر کو مارتاہے۔پس بظاہر ان دونوں کا فعل یکساں ہوتاہے مگر جب کافر کی تلوار سے ایک مومن گرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا عرش کانپ جاتاہے اور فرشتے اس کافر پر لعنتیں ڈالتیں ہیں۔لیکن جب کسی مومن کی تلوار سے ایک کافر گرتاہے تو فرشتے خوش ہوتے ہیں اور مومن پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل کرتے ہیں۔حالانکہ فعل ایک ہوتا ہے مقام ایک ہوتاہے اور ذریعہ قتل ایک ہوتاہے۔مگر ایک کے فعل پر تو برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دوسرے کے فعل پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنتیں اور ملامتیں نازل ہوتی ہیں۔پس اپنی ذات میں ممیت ؔ ہونا یا محیؔ ہونا کوئی اچھی یا بری بات نہیں۔اگر محیؔ ہونا خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہوتو اچھا ہوتاہے۔اگر ممیت ؔ ہونا خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہوتواچھا ہوتاہے لیکن اگرممیت ؔ یامحیؔ ہونا