تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 451

دیکھ لو ایٹم بم سے دنیا کتنی گھبرائی ہوئی ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کے ساتھ موت تو واقع ہوسکتی ہے مگر پیدائش کا کوئی انتظام نہیں۔اگر اس کیساتھ پیدائش کا بھی انتظام ہوتا تو اتنی گھبراہٹ کبھی نہ ہوسکتی۔ہندوئوں میں ایک فرقہ ہے جس میں شامل ہونے والے لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ برہماؔ جی پیدا کرتے ہیں اورشِوجی ؔ مارتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ ہندوستان میں برہماجیؔ کے مندر نہیں ہیں اور شِوجیؔ کے بہت سے مندر ہیں۔برہماجیؔ کا سارے ہندوستان میں صرف ایک مندر ہے۔کہتے ہیں اس فرقہ سے تعلق رکھنے والے ایک راجہ کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی۔اس راجہ نے اپنے وزراء سے مشورہ کیا کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی کیا کرنا چاہیے۔وزراء نے مشورہ دیا کہ آپ برہما کی پرستش کریں لڑکا پیدا ہوگا۔راجہ نے پرستش شروع کردی اور ساتھ ہی نذر نیاز بھی مانی اور کہا اے برہما! اگر میرے گھر میں بیٹا ہوا تو میں اپنے راج میں سب لوگوں سے صرف تیری ہی پرستش کروائوں گا اور شِوجیؔ کی پرستش چھڑادوںگا۔تھوڑے عرصہ کے بعد اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہوا۔اور اس نے شِوجی ؔ کی پرستش سے تمام رعایا کو منع کردیا اور برہما ؔ جی کی پرستش شروع کرادی۔کوئی عقلمند راجہ اسے آکر ملا اور اس نے کہا کہ تمہارا جتنا کام برہماؔ جی کے ساتھ تھا وہ تو پورا ہوگیا اوربیٹا پیدا ہوگیا۔اس لئے بہتر ہے کہ اب شوجیؔ مہاراج کی پوجا کی جائے تاکہ وہ غصہ میں آکر لڑکے کی جان نہ نکال لے۔راجہ نے اس بات کو سمجھ لیا اور کہا اچھا آئندہ شوجیؔ کی پرستش کی جایا کرے تاکہ میرا لڑکا زندہ رہے۔چنانچہ شوجیؔ کی پوجا شروع ہوگئی اور برہماؔ جی کو بھلا دیا گیا۔لڑکا جب بڑا ہوا تو اس نے کسی کی زبانی یہ سارا واقعہ سنا کہ مجھے برہماجیؔ مہاراج نے پیدا کیا تھا اور اب میرے والد نے برہماجیؔ کو چھوڑ کر شوجیؔ کی پوجا شروع کردی ہے۔اس لڑکے کے اندر اخلاقی جرأت تھی۔اس نے سوچا کہ احسان کرنے والے کے احسان کی قدر ہونی چاہیے تھی۔اس لئے اس نے فیصلہ کیا کہ میں تو برہماجیؔ کی ہی پوجا کروںگا۔جب راجہ نے اپنے بیٹے کا یہ رویہ دیکھا تو اس کو فکر ہوا کہ اگر میرے لڑکے نے برہما جی کی پوجا کی توشوجی ناراض ہوجائیں گے اور اس کی جان نکال لیں گے۔چنانچہ راجہ نے اپنے بیٹے کو ڈانٹا کہ برہماجیؔ کی پوجا چھوڑ دو۔لڑکے نے کہا۔میں برہماجیؔ کا احسان فراموش نہیں ہوسکتا۔کچھ مدت باپ بیٹے کا اسی طرح جھگڑا چلتا رہا۔جب کسی کے دل میں ضد پیدا ہوجاتی ہے تو وہ روکنے سے اور بھی بڑھتی ہے۔بیٹے کے دل میں بھی ضد بڑھتی گئی اور باپ کے دل میں بھی بڑھتی گئی۔آخر باپ نے ناراض ہوکر کہا۔اے شوجی! اس کی جان نکال لے۔شوجیؔ نے لڑکے کی جان نکال لی۔اس پر برہماجیؔ شوجی ؔ پر سخت ناراض ہوئے اور کہا اس کی جان کیوں نکالی گئی ہے۔اورانہوں نے پھر اس کو زندہ کردیا مگر شوجی نے دوبارہ اس کی جان نکال لی اور برہماجی نے پھر اس کو زندہ کردیا۔اس طرح دیوتائوں میںلڑائی شروع ہوگئی۔یہ تو ہندئوں کاعقیدہ ہے۔